کے سی آر سے پارلیمنٹ میں مسلم تحفظات پر عدم استفسار کا جواب طلب

چیف منسٹر مسلمانوں سے وضاحت کریں ، قائد اپوزیشن کونسل محمد علی شبیر
حیدرآباد ۔ 25 ۔ جولائی : ( سیاست نیوز ) : قائد اپوزیشن تلنگانہ قانون ساز کونسل محمد علی شبیر نے استفسار کیا کہ پارلیمنٹ کے مانسون سیشن میں ٹی آر ایس کی جانب سے 12 فیصد مسلم تحفظات پر کیوں احتجاج نہیں کیا جارہا ہے ۔ اس کی مسلمانوں سے وضاحت کرنے چیف منسٹر کے سی آر سے مطالبہ کیا ۔ ٹی آر ایس کے قائدین کو کویتا سے جئے آندھرا کا نعرہ لگانے اور آندھرا پردیش کو خصوصی ریاست کا درجہ دینے کا جو مطالبہ کیا ہے اس پر ان سے استفسار کرنے پر زور دیا ۔ آج اسمبلی کے میڈیا ہال میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے محمد علی شبیر نے کہا کہ بجٹ سیشن میں ٹی آر ایس کے ارکان پارلیمنٹ نے 10 دن تک مسلم تحفظات کے مسئلہ پر احتجاج کیا ۔ تلگو دیشم بھی آندھرا کو خصوصی درجہ دینے کا مطالبہ کرتے ہوئے احتجاج کیا ۔ مانسون سیش میں بھی تلگو دیشم اپنے موقف پر برقرار ہے ۔ ٹی آر ایس نے اچانک اپنا موقف کیوں تبدیل کردیا ۔ احتجاج نہ کرنے کی وجہ کیا ہے ۔ کیا مسلمانوں کو 12 فیصد مسلم تحفظات حاصل ہوگئے ہیں ؟ یا مسلم تحفظات کے بدلے میں بی جے پی سے ٹی آر ایس کی سودے بازی ہوگئی ہے ۔ اس کی چیف منسٹر وضاحت کریں ۔ ٹی آر ایس کے قائدین بالخصوص ٹی آر ایس میں موجود مخالف تلنگانہ قائدین کو کانگریس کے سی ڈبلیو سی میں آندھرا پردیش کو خصوصی موقف کا درجہ دینے کے معاملے میں تلنگانہ کانگریس قائدین سے وضاحت طلب کرنے کا اخلاقی حق بھی نہیں ہے کیوں کہ تلنگانہ پردیش کانگریس کمیٹی تقسیم ریاست کے بل میں دونوں تلگو ریاستوں سے جو وعدے کئے گئے تھے ۔ آج بھی اس موقف پر برقرار ہے کیوں کہ جب علحدہ تلنگانہ ریاست تشکیل دینے کا مسئلہ سامنے آیا تھا تو کانگریس کے قائدین نے حیدرآباد پر مشتمل علحدہ تلنگانہ ریاست کی مانگ کی تھی ۔ کے سی آر نے بھی اس کی بھر پور تائید کرتے ہوئے آندھرا کو سونا ، ہیرے اور جواہرات دینے کی وکالت کی تھی ، جس طرح 2014 میں ٹی آر ایس نے تحریک کے جذبات سے سیاسی فائدہ اٹھایا تھا اس طرح 2019 کے عام انتخابات میں آندھرا پردیش کو خصوصی درجہ دینے کا سیاسی استحصال کرتے ہوئے تلنگانہ کے عوام کو دوبارہ گمراہ کرنے کی کوشش کی جارہی ہے ۔ جب کہ حقیقت یہ ہے کہ 2014 میں بھی آندھرا پردیش کو خصوصی ریاست کا درجہ دینے کا فیصلہ ہوگیا تھا ۔ بی جے پی جب تک اے پی کو خصوصی ریاست کا درجہ دینے کی بات کرتی رہی خفیہ معاہدے کے تحت ٹی آر ایس خاموش رہی جب کانگریس اپنے وعدے کو دہرا رہی ہے تو ٹی آر ایس تلنگانہ عوام کو کانگریس کے خلاف مشتعل کرنے کی کوشش کررہی ہے ۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ علحدہ تلنگانہ ریاست کانگریس نے تشکیل دیا ہے ۔ وزیراعظم نریندر مودی نے اس کا اعتراف کرتے ہوئے ٹی آر ایس کی دعویداری کو مسترد کردیا ہے ۔ محمد علی شبیر نے کہا کہ مخالف تلنگانہ ریاستی وزیر ٹی سرینواس یادو کو تلنگانہ کے معاملے میں کانگریس کو تنقید کا نشانہ بنانے کا کوئی اختیار نہیں ہے ۔ ریاستی وزیر ہریش راؤ تلنگانہ کانگریس قائدین سے وضاحت طلب کرنے کے بجائے چیف منسٹر کی دختر کویتا سے جئے آندھرا کا نعرہ دینے اور آندھرا پردیش کو خصوصی ریاست کا درجہ دینے کا جو مطالبہ کیا تھا اس پر وضاحت طلب کرنے پر زور دیا ۔ اس کے علاوہ کانگریس کو تنقید کا نشانہ بنانے والے دوسرے وزراء ٹی آر ایس کے ارکان اسمبلی ارکان پارلیمنٹ کو مشورہ دیا کہ وہ چیف منسٹر کے سی آر سے وضاحت طلب کریں کہ آبپاشی پراجکٹس کے علاوہ دوسرے تعمیری و ترقیاتی کام آندھرائی کنٹراکٹرس کو کیوں دئیے جارہے ہیں ۔ آندھرا پردیش کو خصوصی تحائف کیوں پیش کئے جارہے ہیں ۔ کانگریس عنقریب کے سی آر ، کے ٹی آر اور کویتا کی جانب سے آندھرا کی تائید میں جو قصیدے پڑھے اس کی ویڈیو کلپنگ جاری کریگی ۔۔