اہم عہدوں سے محروم کرنے ارکان اسمبلی کا انحراف، کانگریس اقلیتی قائدین کا الزام
حیدرآباد۔/16 مارچ، ( سیاست نیوز) پردیش کانگریس کمیٹی کے اقلیتی قائدین نے کے سی آر کو مخالف مسلم و اقلیت قرار دیا اور کہا کہ قانون ساز اسمبلی اور کونسل میں کانگریس کے مسلم اور دلت قائدین کو قائد اپوزیشن کے موقف سے محروم کرنے کیلئے بڑے پیمانے پر انحراف کیا گیا۔ پارٹی کے ترجمان نظام الدین اور اقلیتی ڈپارٹمنٹ گریٹر حیدرآباد کے صدر سمیر ولی اللہ نے میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ کے سی آر کسی دلت اور مسلمان کو اہم عہدہ پر برداشت نہیں کرسکتے۔ اسمبلی انتخابات سے قبل ٹی آر ایس کے 3 ارکان کونسل کانگریس میں شامل ہوئے تو ان کے خلاف فوری کارروائی کرتے ہوئے رکنیت سے نااہل قرار دیا گیا جبکہ کانگریس کے 4 ارکان اسمبلی ٹی آر ایس میں شامل ہوئے تو ان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ کونسل میں محمد علی شبیر کو قائد اپوزیشن کے عہدہ سے محروم کرنے کیلئے ارکان کی خریدی عمل میں لائی گئی اور ان کا عہدہ ختم کیا گیا۔ اب دلت لیڈر بھٹی وکرامارکا کو قائد اپوزیشن کے عہدہ سے محروم کرنے کی سازش تیار کی گئی ہے۔ کانگریس ارکان اسمبلی کو بھاری رقومات اور لالچ کے ذریعہ خرید کر مسلمہ اپوزیشن کے موقف سے محروم کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کونسل اور اسمبلی میں چیف منسٹر کا رویہ یہ ثابت کرتا ہے کہ انہیں دلت اور مسلمانوں کی ترقی پسند نہیں۔ 2014میں کے سی آر نے چیف منسٹر کے عہدہ پر فائز ہوتے ہوئے دلت ڈپٹی چیف منسٹر ڈاکٹر راجیا کی توہین کی اور انہیں وزارت سے برطرف کردیا تھا۔ برطرفی کی وجوہات کا آج تک پتہ نہیں چلا۔ گزشتہ تین ماہ میں 4 ایم ایل سیز اور 6 ایم ایل ایز کو ٹی آر ایس میں شامل کیا گیا۔ اقلیتی قائدین نے فیڈرل فرنٹ کے دعوؤں کو مضحکہ خیز قرار دیا اور کہا کہ قومی سیاست میں معیاری تبدیلی کا دعویٰ کرنے والے کے سی آر دہلی میں ارکان پارلیمنٹ کی خرید و فروخت چاہتے ہیں۔ انہوں نے ٹی آر ایس کے اس دعویٰ کو مضحکہ خیز قرار دیا کہ 16 ارکان پارلیمنٹ کے ساتھ کے سی آر وزیر اعظم کے عہدہ پر فائز ہوں گے۔ 2014-19 ٹی آر ایس کے بعد 16 ارکان پارلیمنٹ تھے لیکن مرکز سے تلنگانہ کیلئے ایک بھی پراجکٹ کی منظوری حاصل نہیں کی جاسکی۔ کے سی آر بی جے پی حکومت پر دباؤ بنانے اور تنظیم جدید قانون کے وعدوں پر عمل آوری میں ناکام ثابت ہوئے ہیں۔ ریاست کیلئے ایک بھی نیا پراجکٹ منظور نہیں ہوا اور نہ ہی خصوصی فنڈز کی اجرائی عمل میں آئی۔ انہوں نے کہا کہ کے سی آر پھر ایک مرتبہ جھوٹے وعدوں کے ذریعہ عوام کو گمراہ کرنا چاہتے ہیں۔ تلنگانہ میں کے سی آر کی غیر جمہوری حکومت کے خاتمہ کا وقت آچکا ہے۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ لوک سبھا انتخابات میں کانگریس کو ووٹ دیں اور ٹی آر ایس اور اسکی حلیف مجلس کی شکست کو یقینی بنائیں۔