کیرالا اسمبلی میں دنگل کا منظر ‘ افرا تفری اور دھینگامشتی

تھرواننتاپورم 13 مارچ ( سیاست ڈاٹ کام ) کیرالا اسمبلی میں آج انتہائی افرا تفری و دھینگا مشتی کے واقعات پیش آئے اور اپوزیشن و برسر اقتدار جماعتوں کے ارکان ایک دوسرے سے متصادم ہوگئے جبکہ وزیر فینانس مسٹر کے ایم منی نے ریکارڈ 13 ویں مرتبہ ریاست کا بجٹ پیش کیا ۔ ایوان میں ہوئی ہنگامہ آرائی کے دوران ارکان اسمبلی ایوان کے عملہ کے ساتھ بھی الجھ پڑے جس کے نتیجہ میں کئی افراد زخمی بھی ہوگئے ۔ ایوان میں ایک موقع پر عملا دنگل کا منظر دکھائی دے رہا تھا اور مسٹر منی کو بجٹ پیش کرنے سے روکنے کی ہر ممکن کوشش کی گئی ۔ ان پر بار کیس میں رشوت حاصل کرنے کا الزام ہے ۔ اپوزیشن ارکان نے مسٹر منی کو آج ایوان میں داخل ہونے سے روکنے کا اعلان کیا تھا جس کے پیش نظر منی اور ان کے کئی کابینی ساتھی کل رات اسمبلی کامپلکس ہی میں رک گئے تھے ۔ ایل ڈی ایف نے اپنے ارکان اسمبلی پر مبینہ حملوں کے خلاف کل ہڑتال کا اعلان کیا ہے ۔ کہا گیا ہے کہ ایوان میں خاتون ارکان کو بھی نشانہ بنایا گیا اور ایوان کے باہر پارٹی کارکنوں پر حملے کئے گئے ہیں۔ اسمبلی کے باہر ایل ڈی ایف اور یوا مورچہ کا احتجاج بھی پرتشدد موڑ اختیار کرگیا ۔ کئی مقامات پر تشدد کے واقعات پیش آئے اور پولیس کو کئی مقامات پر احتجاجیوں کو لاٹھی چارچ کے ذریعہ منتشر کرنا پڑا ۔

پولیس نے آنسو گیس کے شیلس برسائے اور برہم ہجوم کو منتشر کرنے کیلئے واٹر کینن کا استعمال بھی کیا ۔ ہجوم نے ایک پولیس جیب کو نذر آتش کردیا تھا ۔ اسمبلی کے قریب ایل ڈی ایف کے احتجاج میں شامل ایک 64 سالہ شخص مظاہرہ کے دوران اچانک گرپڑا اور فوت ہوگیا ۔ چیف منسٹر اومن چنڈی نے اعلان کیا کہ یو ڈی ایف 15 مارچ کو یوم سیاہ کا اہتمام کریگا ۔ انہوں نے کہا کہ بائیں بازو کے ارکان اسبملی نے وزیر فینانس کو بجٹ پیش کرنے سے روکنے کی کوشش کرتے ہوئے قانون کی سنگین خلاف ورزی کی ہے ۔ انہوں نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ ارکان اسمبلی کے خلاف کسی بھی کارروائی کے تعلق سے فیصلہ بعد میں کیا جائیگا ۔ تاہم اسمبلی کی گڑبڑ اور ہنگامہ آرائی سے قطع نظر مسٹر کے ایم منی نے ریکارڈ 13 ویں مرتبہ بجٹ پیش کرنے میں کامیابی پر مسرت کا اظہار کیا ہے اور کہا کہ تمام رکاوٹوں سے انہیں افسوس تو ہوا ہے کیونکہ وہ چرچ نہیں جاسکے تاہم انہیں خوشی ہے کہ وہ بجٹ پیش کرنے میں کامیاب رہے ہیں۔