کٹھوا قتل وعصمت دری کیس

جموں وکشمیر کی گورنر انتظامیہ نے ملزمین کے وکیل کو ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل بنایا

جموں،18جولائی (سیاست ڈاٹ کام) جموں و کشمیر گورنر انتظامیہ نے کٹھوعہ کے ہیرا نگر تحصیل کے رسانہ گاؤں میں 8سالہ بچی کی عصمت دری وقتل کے ملزمین کی عدالت میں پیروی کر رہے ایک وکیل کو ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل بنایاہے ۔ 19جون2018کو پی ڈی پی۔ بی جے پی حکومت گِرنے کے کچھ دِ نوں بعد ہی جموں وکشمیر کے ایڈووکیٹ جنرل جہانگیر اقبال گنائی نے استعفیٰ دے دیاتھا۔ پچھلے دنوں گورنر این این ووہرا نے سنیئر وکیل ڈی سی رینا کو ایڈووکیٹ جنرل بنایاجنہوں نے اپنی ایک نئی ٹیم تیار کی اس میں جموں وکشمیر ہائی کورٹ وِنگ کے لئے کل17لاء افسران کی تقرریاں عمل میں لائی گئیں جن میں چار سنیئر ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل، تین ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل، 5ڈپٹی ایڈووکیٹ جنرل اور 4گورنمنٹ ایڈووکیٹ شامل ہیں۔ان میں ایڈووکیٹ آسیم ساہنی کو ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل بنایاگیاہے جوکہ کٹھوعہ قتل وعصمت دری کیس کے ملزمین کے مقدمہ کی پٹھانکوٹ ضلع عدالت میں پیروی کر رہے ہیں۔ انہوں نے کٹھوعہ کورٹ سے ہی ملزمین کی پیروی کرنا شروع کی تھی۔ ذرائع نے یو این آئی کو بتایاکہ ایڈووکیٹ آسیم سہنی جنہیں ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل بنایاگیاہے ، اُن کے والد ایڈووکیٹ اے کے ساہنی وہ ابھی بھی کٹھوعہ کیس کے ملزمین کی پیروی کر رہے ہیں اور روزانہ کیس ختم ہونے کے بعد ضلع کورٹ پٹھانکوٹ کے باہر پریس کانفرنس کر کے اند ر دن بھر ہوئی کارروائی کی تفصیل بتاتے ہیں۔ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل تعینات ہوئے ایڈووکیٹ آسیم ساہنی اور ان کے والد پہلے وکیل ہیں جنہوں نے جنہوں سے جاکر کٹھوعہ میں آٹھ سالہ بچی کے ملزمین کے مقدمہ کی پیروی کرنے کا فیصلہ کیاتھا۔ کٹھوعہ کیس کے وکلاء صفائی کو ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل کی تعیناتی پر چوطرفہ تنقید ہورہی ہے اور گورنر انتظامیہ کو ہدف تنقید بنایاجارہاہے ۔ یاد رہے کہ جموں وکشمیر ریاست میں دو ہائی کورٹ ہیں، ایک جموں اور ایک سرینگر، جموں کے لئے 16لا افسران جبکہ کشمیر ہائی کورٹ کے لئے 15لا افسران کی تقرری گذشتہ روز گورنر انتظامیہ نے آرڈرنمبر3984-LD(A) of 2018اورآرڈر نمبر3983-LD(A) of 2018کے تحت عمل میں لائی ہے ۔