آشیانہ نامی جائیداد تقریباً 900 گز اراضی پر محیط، 12 کروڑ کی مالیت
حیدرآباد ۔ 9 مارچ ۔ تاریخی معظم جاہی مارکٹ سے آگے نامپلی روڈ شہر کا یہ حصہ تجارتی لحاظ سے بہت زیادہ اہمیت رکھتا ہے۔ ریئیل
اسٹیٹ کا کاروبار کرنے والوں کے خیال میں اس علاقہ میں فی مربع گز اراضی کی قیمت کم سے کم 1.5 لاکھ روپئے ہے۔ اس اہم ترین علاقہ میں ایک نہیں دو نہیں بلکہ 900 گز موقوفہ اراضی بیکار پڑی ہوئی ہے اور بازاری قیمت کے لحاظ سے تقریباً 12 کروڑ روپئے مالیت ہوسکتی ہے۔ اسپیشل آفیسر وقف بورڈ کی نظروں سے اس اراضی کو چھپایا جارہا ہے تو آپ، ہم اور تمام کو بہت حیرت ہوگی۔ کچھ دن قبل کٹل منڈی میں بی جے پی کے دفتر کے قریب اور ہندی ملاپ کے روبرو واقع اس موقوفہ جائیداد کے بارے میں معلومات حاصل ہوئیں۔ وقف ریکارڈ سے یہ بات سامنے آئی کہ یہ جائیداد دراصل حفظ قرآن اور دینی مدرسہ کیلئے وقف کی گئی تھی جہاں ایک وسیع و عریض کھلا پلاٹ ہے اور اس کی گیٹ پر قدیم تالا پڑا ہوا ہے۔ ذرائع سے پتہ چلا کہ اس پلاٹ پر عنقریب کوئی بااثر شخصیت ایک کمرشیل کامپلکس تعمیر کرنے والی ہے۔ ملت کو اس جائیداد کے بارے میں واقف کروانا لازمی سمجھا گیا۔ واضح رہیکہ ہزاروں بلکہ لاکھوں کروڑ مالیتی اوقافی جائیدادوں کے تحفظ کیلئے روزنامہ سیاست نے باضابطہ ایک تحریک شروع کی ہے اور کھوج اس تحریک کا ایک حصہ ہے۔ ذرائع سے پتہ چلا ہیکہ وقف بورڈ ان جائیدادوں کا متولی ہے۔
اس کے باوجود بورڈ کے کچھ عہدیداران قیمتی جائیدادوں کے تعلق سے اسپیشل آفیسر جناب شیخ محمد اقبال کو بے خبر رکھے ہوئے ہیں کیونکہ عہدیدار اچھی طرح جانتے ہیں کہ اسپیشل آفیسر آئی پی ایس ہیں اور وہ مجرمانہ ذہنیت رکھنے والوں کو باآسانی پہچان لیتے ہیں۔ ایسے میں اگر اس موقوفہ جائیداد کے بارے میں انہیں واقف کروایا جائے تو عین ممکن ہیکہ اس جائیداد کے تحفظ کیلئے اقدامات شروع کردیئے جائیں۔ 430 مربع گز اراضی کے حامل موقوفہ پلاٹ کا جائزہ لیتے وقت متصل ایک اور موقوفہ جائیداد کا پتہ چلا اور یہ دونوں جائیدادیں دینی مدارس کیلئے وقف کی گئیں تھیں۔ وقف ریکارڈ کا جائزہ میں سیریل نمبر 1672 میں اس کی تفصیلات درج ہیں جو اس طرح ہیں وارڈ نمبر 5 ، بلاک نمبر 4، آشیانہ (اس جائیداد کی گیٹ پر آشیانہ لکھا ہوا ہے) نمبر 5-4-697 کٹل منڈی، رقبہ 430 مربع گز (26) (S)۔ جائیداد کی نوعیت کے بارے میںاسے حافظ قرآن اور دینی مدرسہ کیلئے وقف کردہ جائیداد بتائی جاتی ہے۔ یہ جائیداد دورخی ہے۔ اسی طرح اس سے متصل ایک اور موقوفہ پلاٹ کا پتہ چلا لیکن وقف گزٹ میں یہ نہیں بتایا گیا کہ آخر یہ جائیداد کتنی اراضی پر محیط ہے۔ تاہم آشیانہ کی طرح اس کا بھی کرایہ (آمدنی) 480 روپئے ہی ظاہر کیا گیا اور یہ آمدنی یا کرایہ 1984ء کا رکھا گیا ہے۔ اس گزٹ میں سیریل نمبر 1673 میں بھی 5-4-697 کے تحت ایک جائیداد بتائی گئی۔ اس موقوفہ اراضی کے منشاء و مقصد کے بارے میں بتایا گیا کہ یہ عمارت غریب طلبہ اور مذہبی تعلیمی اداروں کیلئے وقف کی گئی ہے۔ وقف بورڈ کے عہدیداروں کی ذمہ داری ہیکہ اس قیمتی جائیداد کے تحفظ کو یقینی بنائیں بصورت دیگر وہاں بھی دیگر موقوفہ جائیدادوں پر ناجائز قبضہ کے ذریعہ تعمیر کردہ عمارتوں کی طرح کوئی کمرشیل کامپلکس تعمیر کرلیا جائے گا۔