کویتا کی دانست میں ٹی آر ایس کو قومی سطح پر کام کرنے کا موقع

جے پی اور کانگریس سے دوری کا عہد ۔ ٹی آر ایس لیڈر کی نظر میں تین ریاستوں میں راہول زیرقیادت پارٹی کی کامیابی متاثرکن نہیں

نئی دہلی ، 19 ڈسمبر (سیاست ڈاٹ کام) قومی سیاست میں علاقائی پارٹیوں کے بڑے رول کا دعویٰ کرتے ہوئے چیف منسٹر تلنگانہ کی دختر اور ٹی آر ایس لیڈر کلواکنتلہ کویتا نے آج کہا کہ اب ’’غیرجانبدار محاذ‘‘ کے اُبھرنے کا وقت آچکا ہے جو بی جے پی اور کانگریس سے پاک ہوگا۔ انھوں نے واضح کیا کہ تلنگانہ راشٹرا سمیتی نہ تو اُس مخلوط کا حصہ ہے جو کانگریس تشکیل دے رہی ہے اور نا ہی کوئی پارٹی کی ’ٹیم B‘ ہے۔ 40 سالہ ٹی آر ایس ایم پی نے یہاں پریس کانفرنس سے خطاب میں یہ بھی کہا کہ کانگریس کی مدھیہ پردیش، راجستھان اور چھتیس گڑھ میں حالیہ کامیابی اس کی طاقت کا کوئی ’’زبردست‘‘ مظاہرہ نہیں ہے بلکہ نیشنل پارٹی کی ’’قابل افسوس حالت‘‘ ہے۔ انھوں نے مزید کہا کہ بعض علاقائی پارٹیاں جو نام نہاد کانگریس زیرقیادت کا حصہ ہیں، وہ 2019ء لوک سبھا انتخابات کیلئے کانگریس سربراہ راہول گاندھی کو وزارت عظمیٰ کے طور پر تجویز کرنے کے مخالف ہیں۔ ان مسائل کو اجاگر کرتے ہوئے جنھیں پارلیمنٹ کے جاریہ سرمائی اجلاس میں اٹھایا جانے والا ہے، کویتا نے کہا کہ مستقبل میں ہم یقینی بنائیں گے کہ علاقائی پارٹیوں کا قومی سیاست میں عظیم تر رول ہو کیونکہ جو کچھ نیشنل پارٹیاں نہیں کرسکیں وہ علاقائی پارٹیاں کرنے کے قابل ہیں۔ ٹی آر ایس کے آٹھ دیگر ایم پیز کے ہمراہ کے چندرشیکھر راؤ کی بیٹی نے کہا کہ ٹی آر ایس یقینا قومی سیاست میں عظیم تر رول انجام دے گی۔ ’’ہم ایک مخلوط پر کام کررہے ہیں جو کانگریس اور بی جے پی دونوں سے آزاد ہوگا۔ ہم کسی کے بھی ’’ٹیم بی‘‘ نہیں ہے، ہم ہندوستانی عوام کے ’’ٹیم بی‘‘ (ضرور) ہیں۔‘‘ کویتا نے زور دیا کہ وقت کی ضرورت ’’نیوٹرل پلیٹ فارم‘‘ کا قیام ہے کیونکہ موجودہ این ڈی اے حکومت بھی مختلف وعدوں جیسے ویمنس ریزرویشن پر عمل آوری کرنے میں ’’بری طرح ناکام ہوئی‘‘ ہے۔

لہٰذا یہی وقت ہے کہ کوئی نیوٹرل پلیٹ فارم کا قیام ہونا چاہئے جو بی جے پی اور کانگریس دونوں سے تعلق نہ رکھے۔ ہم بلاشبہ اس ضمن میں کام کریں گے۔ ہم یقینی بنائیں گے کہ ہم کوئی ایسا اتحاد قائم کریں جس میں بی جے پی یا کانگریس نہیں رہیں گے۔ اس بارے میں اُن کی رائے پوچھنے پر کہ مخالف بی جے پی مخلوط محاذ جو ابھی تشکیل کے مرحلے میں ہے، اس کے پی ایم امیدوار کی حیثیت سے کانگریس سربراہ کو ڈی ایم کے کی جانب سے تجویز کیا جارہا ہے، ٹی آر ایس لیڈر نے کہا کہ ہم اس گروپ کا حصہ نہیں ہیں۔ اُس گروپ سے دو علاقائی پارٹیاں پہلے ہی اُن (راہول گاندھی) کے نام پر اعتراض کرچکی ہیں۔ لہٰذا، یہ معاملہ کوئی ایک شخص کے وزیراعظم بننے یا کوئی پارٹی برسراقتدار آجانے کا نہیں ہے، بلکہ عوام کے مسائل کی حقیقی معنوں میں یکسوئی کرنا اصل مقصد ہے۔ ٹی آر ایس لیڈر نے یہ بھی یاد دلایا کہ اُن کے والد نے راہول کو ’’مسخرہ‘‘ قرار دیا تھا جب انھوں نے پارلیمنٹ میں قواعد کو توڑا اور وزیراعظم نریندر مودی سے گلے ملے۔ یہ بچکانہ حرکت رہی اور ساری قوم نے دیکھ کر اُن کی ہنسی اڑائی۔ کویتا نے کہا کہ ٹی آر ایس نے تلنگانہ میں عوام کے مسائل پر توجہ دیتے ہوئے اچھا کام کیا ہے اور پارٹی یقینی بنانا چاہتی ہے کہ اسی طرح کا کام قومی سطح پر بھی انجام دیا جائے۔ ٹی آر ایس کے لوک سبھا میں 9 اور راجیہ سبھا میں 3 نشستیں ہیں۔