عمرالحسین صرف دو ہفتے قبل جیل سے رہا ہوا تھا، میڈیا کا دعویٰ
کوہن ہیگن ۔ 16 فبروری (سیاست ڈاٹ کام) ڈنمارک کے ذرائع ابلاغ نے کوپن ہیگن میں دہری شوٹنگ کرنے والے مشتبہ بندوق بردار کی ایک ایسے 22 سالہ نوجوان کی حیثیت سے شناخت کی ہے جو پرتشد جرائم کی ایک تاریخ رکھتا ہے اور دو ہفتے قبل جیل سے رہا ہوا تھا۔ ایک ایسے وقت جب جہادی تشدد کی نئی لہر پر سارا یوروپ اشکبار ہے، مقامی پولیس نے کہا کہ ایک تہذیبی مرکز اور ایک یہودی عبادت گاہ میں دو افراد کو گولی مار کر ہلاک کرنے والا یہ نوجوان گذشتہ ماہ پیرس میں ہوئے حملوں سے سبق حاصل کیا تھا۔ تاہم پولیس نے جوابی کارروائی میں اس حملہ آور نوجوان کو ہلاک کردیا۔ اواخر ہفتہ پر ہوئے ان حملوں پر ساری دنیا کی طرف سے گہری تشویش اور متاثرین سے ہمدردی کا اظہار کیا جارہا ہے۔ ڈنمارک کے وزیراعظم ہیلے تھارننگ شمڈ نے ان حملوں کو دہشت گردی کا ایک انتہائی ناپاک اور گنہگار عمل قرار دیا ہے۔ ڈنمارک میں ذریعہ ابلاغ کے کئی اداروں نے کہا کہ مشتبہ واحد بندوق بردار 22 سالہ عمر الحسین تھا جو خطرناک حملوں کے جرم میں سزاء پانے کے بعد دو ہفتہ قبل جیل سے رہا ہوا تھا۔ پولیس نے کہا کہ یہ نوجوان ڈنمارک میں ہی پیدا اور بڑا ہوا تھا۔ وہ حملوں اور اسلحہ رکھنے سے متعلق کئی جرائم میں ملوث ہونے کی ایک طویل تاریخ رکھتا ہے۔