پورٹ او پرنس (ہیٹی)، 14 مئی (سیاست ڈاٹ کام) زیر آب تحقیق کرنے والے ایک امریکی محقق نے خیال ظاہر کیا ہے کہ انھوں نے سانتا مریا نامی اس بحری جہاز کا ملبہ دریافت کر لیا ہے جسے کرسٹوفر کولمبس نے براعظم امریکہ کی دریافت کیلئے استعمال کیا تھا۔ بیری کلفرڈ کا کہنا ہے کہ ان کو محصلہ شواہد سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ ہیٹی کے شمالی ساحل کے قریب موجود ملبہ سانتا مریا ہی کا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ان کی ٹیم نے اس بحری جہاز کے ملبے کی تصاویر لی ہیں اور اس کی پیمائش بھی کی ہے۔ وہ اس مقام کا زیادہ تفصیلی جائزہ لینے اور اسے تحفظ فراہم کرنے کیلئے حکومت ہیٹی سے بات چیت کر رہے ہیں۔ 1492ء میں کولمبس کے بحری بیڑے میں سانتا مریا کے علاوہ لا نینا اور لا پنتا نامی دو جہاز شامل تھے۔ کولمبس ایشیا جانے کو مغربی راستہ تلاش کرنے کی غرض سے نکلے تھے، لیکن ہیٹی پہنچ گئے۔ کولمبس کی اسپین واپسی سے قبل ہی سانتا مریا غرقاب ہوگیا تھا۔ کلفرڈ کا کہنا ہے کہ ’’تمام جغرافیائی، زیرِ زمین مطالعات اور آثارِ قدیمہ کے ٹھوس شواہد سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ ملبہ کولمبس کے مشہور جہاز ہی کا ہے‘‘۔ ’’
مجھے یقین ہے کہ اس ملبے کی مکمل کھدائی کے بعد ہمیں پہلی بار سمندری آثارِ قدیمہ کی مدد سے کولمبس کے امریکہ دریافت کرنے کے شواہد ملیں گے‘‘۔ کلفرڈ نے کہا کہ انھوں نے سانتا مریا کے ممکنہ مقام کی کھوج میں آثارِ قدیمہ کے گزشتہ مطالعہ جات سے مدد لی جن کے مطابق کولمبس کا ایک قلعہ تعمیر کیا گیا تھا اور جہاز سانتا مریا اسی قلعے کے قریب ڈوبا تھا۔ کولمبس کی ڈائری میں درج شدہ معلومات سے بھی استفادہ کیا گیا اور حالیہ غوطہ خوری مہم سے انھیں اس امکان پر یقین آنے لگا ہے۔