کوئلہ کان حادثہ : ترک مشیر نے احتجاجی شخص کو لاتیں مارا

ترکی میں بدترین حادثے کے بعد زدوکوبی کے واقعہ پر اردغان حکومت کو تنقید کا سامنا
استنبول، 16 مئی (سیاست ڈاٹ کام) ترک وزیراعظم رجب طیب اردغان کے ایک مشیر نے مغربی شہر سوما میں کوئلہ کان کے حادثے پر احتجاج کرنے والے ایک شخص کو سرعام لاتیں مارے ہیں۔اس واقعہ کی ویڈیو منظرعام پر آنے کے بعد شہریوں اور میڈیا نے سخت ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ ترک اخبارات نے جمعرات کو وزیراعظم اردغان کے اس مشیر کے مظاہرہ کرنے والے ایک شخص کو لاتیں مارتے ہوئے تصاویر شائع کی ہیں۔ان تصاویر میں وہ شخص زمین پر گرا ہوا ہے اور اس کو خصوصی پولیس فورس کے جوانوں نے پکڑا ہوا ہے

جبکہ مشیر صاحب اس کی لاتوں سے تواضع کررہے ہیں۔ یہ واقعہ چہارشنبہ کو وزیراعظم اردغان کے مغربی شہر سوما میں کوئلہ کان کے حادثے کے بعد دورے کے موقع پر پیش آیا تھا۔اس واقعے میں 282 کان کن ہلاک ہو چکے ہیں اور بیسیوں ابھی تک لاپتہ ہیں۔ وزیراعظم کے دفتر نے سوما میں احتجاجی شخص کو لاتیں مارے جانے کے اس واقعہ سے لاتعلقی کا اظہار کیا ہے۔ ایک عہدے دار نے اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہا ہے کہ یہ ان مشیر صاحب کا ذاتی فعل ہے اور وہی اس کے ذمے دار ہیں لیکن اس واقعہ سے میڈیا اور ترکوں میں رجب طیب اردغان کا امیج ضرور مجروح ہوا ہے جو مستقبل قریب میں ترکی کی صدارت پر متمکن ہونا چاہتے ہیں۔ کوئلہ کان کے افسوسناک حادثے اور اس واقعہ پر میڈیا نے ترک حکومت کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔