نئی دہلی۔18 جولائی ۔( سیاست ڈاٹ کام ) دہلی ہائیکورٹ نے آج جواہر لعل نہرو یونیورسٹی کو ہدایت دی کہ اس کی طلبہ یونین کے صدر کنہیا کمار کو 20 جولائی تک دھمکیاں نہ دی جائیں ۔ کنہیا لال پر یونیورسٹی کی اپلیٹ اتھاریٹی نے 10,000 روپئے جرمانہ ، 2016 ء کے واقعہ کا مجرم قرار دیتے ہوئے اُن پر عائد کیا تھا ۔ انھوں نے مبینہ طورپر ہند مخالف نعرہ بازی ایک تقریب میں کی تھی اور پارلیمنٹ پر حملے کے مجرم افضل گرو کی ستائش کی تھی ۔ جسٹس ریکھا پلی نے اپنے ایک زبانی حکم میں یونیورسٹی کو ہدایت دی کہ جہاں تک جرمانہ ادا کرنے کا سوال ہے کنہیا کو اس سلسلے میں دھمکیاں دینے کا کوئی اقدام نہ کیا جائے ، یہ معاملہ اُن کے اجلاس پر زیردوران ہے چنانچہ وہ یونیورسٹی کی جرمانہ وصول کرنے کیلئے کنہیا کو دھمکیاں نظرانداز نہیں کرسکتیں ۔ وہ مقدمہ کی فائیل کا مطالعہ کررہی ہیں چنانچہ 20 جولائی تک دھمکیاں دینے پر امتناع عائد کرتی ہیں۔