کمپیوٹر ڈیٹا کی جانچ پر اپوزیشن کا ہنگامہ، راجیہ سبھا ملتوی

نئی دہلی، 21دسمبر (سیاست ڈاٹ کام) کمپیوٹر ڈیٹا کی جانچ کے وزارت داخلہ کی ہدایت پر صفائی دیتے ہوئے حکومت نے آج راجیہ سبھا میں کہاکہ یہ ہدایت ہر شخص کے کمپیوٹر پر نافذ نہیں ہوتی اور یہ جانچ صرف قومی سلامتی کے سلسلہ میں ہی کی جائے گی لیکن اس دلیل سے غیرمطمئن اپوزیشن نے ایوان میں جم کر ہنگامہ کیا جس کی وجہ سے ایوان کی کارروائی پورے دن کے لئے ملتوی کرنی پڑی۔ صبح بھی اپوزیشن کے ہنگامہ کی وجہ سے ایوان میں کام کاج نہیں ہوسکا تھا اور چیرمین ایم ونکیا نئیڈو نے لنچ کے وقفہ تک کارروائی ملتوی کردی تھی۔ اس طرح سرمائی اجلاس میں مسلسل آٹھویں دن ایوان بالا میں کوئی کام کاج نہیں ہوسکا۔ ملتوی کئے جانے کے بعد جیسے ہی نجی بل اور عزائم پر بحث کے لئے ایوان کی کارروائی شروع ہوئی اپوزیشن کے لیڈر غلام نبی آزاد نے جموں وکشمیر میں صدر راج نافذ کرنے اور مرکزی وزارت داخلہ کی ہدایت کا معاملہ اٹھایا۔ انہوں نے کہاکہ پارلیمنٹ کا اجلاس چلتے ہوئے حکومت نے جموں و کشمیر میں صدر راج لگایا ہے اس پر دونوں ایوانوں میں بحث ہونی چاہئے ۔ غلام نبی آزاد نے 10تفتیشی ایجنسیوں کو کمپیوٹر داٹا کی جانچ کی اجازت دینے کے وزارت داخلہ کی ہدایت کو سیاہ قانون اور تاناشاہی قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ ملک میں غیراعلان شدہ ایمرجنسی نافذ کرنے جیسا ہے ۔ انہوں نے کہاکہ حکومت جانچ ایجنسیوں کا غلط استعمال کررہی ہے ۔ حکمراں فریق کے اراکین کے اس کی مخالفت کرنے کے بعد کانگریس، راشٹریہ جنتادل، ڈی آئی ایم کے ، عام آدمی پارٹی اور سماج وادی پارٹی کے اراکین نے اس کی سخت مخالفت کی جس سے ایوان میں بدنظمی پیدا ہوگئی ۔