کمزور ایمان اور کامل ایمان

مولانا غلام رسول سعیدی

ٹریفک کے قانون کے تحت بعض سڑکوں پر ون وے ٹریفک ہوتا ہے۔ جب ہمیں معلوم ہو کہ سڑک پر اس وقت ٹریفک کا کوئی سپاہی موجود نہیں ہے تو بسا اوقات ہم قانون کے خلاف غلط سمت بھی اپنی سواریوں کو لے جاتے ہیں، کیونکہ ہم کو یقین ہوتا ہے کہ ٹریفک کے سپاہیوں کو اس وقت ہماری اس قانون شکنی کا علم نہیں ہوگا اور جب ہم دیکھ رہے ہوں کہ سڑک پر سپاہی تو ہیں، لیکن وہ ٹریفک کے سپاہی نہیں ہیں اور انھیں اس قانون شکنی پر گرفت کا اختیار نہیں ہے، تب بھی ہم ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے بے دھڑک گزر جاتے ہیں، کیونکہ ہم سمجھتے ہیں کہ ان سپاہیوں کو ہماری اس خلاف قانون حرکت کا علم تو ہے، لیکن ان کو اس قانون شکنی پر ہم سے مواخذہ کی قدرت نہیں ہے اور جب ہم دیکھ رہے ہیں کہ سڑک پر ٹریفک کے سپاہی موجود ہیں تو ہم ٹریفک کے کسی قانون کی خلاف ورزی کی جرأت نہیں کرتے، کیونکہ ہمیں یقین ہوتا ہے کہ ٹریفک کے اس سپاہی کو ہماری قانون شکنی کا علم بھی ہے اور سزا دینے کا اختیار اور اس پر قدرت بھی ہے۔
اب ذرا سوچئے کہ جب ہم اللہ تعالی کے احکام کی نافرمانی کرتے ہیں تو کیا سمجھ کے کرتے ہیں؟ یا تو ہمارا خیال یہ ہوتا ہے کہ اس کو ہماری اس نافرمانی کا علم نہیں ہوگا، یا ہم یہ سمجھتے ہیں کہ علم تو ہے، لیکن اللہ تعالی کو ہمیں سزا دینے پر قدرت نہیں ہے۔ کیا یہ ستم کی انتہا نہیں ہے کہ ہم دنیا کے ادنی ٹریفک کانسٹبل کے علم اور قدرت پر جس قدر یسین رکھتے ہیں، اللہ تعالی کے علم اور اس کی قدرت پر ہمیں اتنا یقین اور ایمان بھی نہیں ہے۔
ایک اور انداز سے سوچئے کہ ایک چھ ماہ کا ناسمجھ بچہ آگ کے جلتے ہوئے انگاروں میں بے خطر ہاتھ ڈال دیتا ہے، کیونکہ اس کو یہ علم اور یقین نہیں ہوتا کہ یہ آگ اس کو جلادے گی اور ہم اس جلتی ہوئی آگ میں ہاتھ اس لئے نہیں ڈالتے، کیونکہ ہم کو یقین ہے کہ یہ آگ ہمارے ہاتھ جلادے گی۔ پس معلوم ہوا کہ ہم اس دنیاوی آگ کے جلانے پر جتنا ایمان اور یقین رکھتے ہیں، آخرت میں دوزخ کی آگ کے جلانے پر ہم اتنا بھی یقین نہیں رکھتے، ورنہ ہم کبھی علی الاعلان فحاشی، معاصی اور منکرات کے ان کاموں میں ہاتھ نہ ڈالتے، جو دوزخ کی آگ میں جلنے کا موجب ہوتے ہیں۔
اس مثال سے یہ واضح ہو گیا کہ ہمارے ایمان میں خامی اور کمزوری ہے، کیونکہ ہم دنیاوی عذاب پر تو یقین رکھتے ہیں اور آخرت کے عذاب پر ایمان ہمارے اعمال سے ظاہر نہیں ہوتا۔
ایک مرتبہ ام المؤمنین حضرت سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: ’’یارسول اللہ! جب سے میں نے آپ سے یہ سنا ہے کہ قبر میت کو دباتی ہے، اس دن سے میری راتوں کی نیند اُڑ گئی ہے‘‘۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’دباتی تو ضرور ہے، مگر نیکوکار کو اس طرح دباتی ہے، جیسے ماں بچے کا سر دباتی ہے، کیا اس سے اس کو تکلیف ہوتی ہے؟‘‘۔ ایک اور حدیث میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ’’گنہگار کو قبر اس طرح دباتی ہے کہ دائیں کی پسلیاں بائیں پسلیوں میں اور بائیں کی پسلیاں دائیں پسلیوں میں گھس جاتی ہیں‘‘۔ (نبراس)
غور کیجئے کہ ہم نے عذاب قبر کے بارے میں بار بار احادیث میں وارد شدہ یہ وعیدیں سنی ہیں، کیا اس خوف سے کوئی رات ہم نے بھی بے چینی میں گزاری ہے؟ کیا کسی رات ہم بھی عذاب قبر کے خوف سے بستر پر کروٹیں بدلتے رہے ہیں اور اگر اس قسم کی احادیث بارہا سننے کے باوجود بھی ہم رات کو بے فکری سے گھوڑے بیچ کر سوئے رہتے ہیں تو کیا اس سے یہ ظاہر نہیں ہوتا کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خبروں کے ساتھ جو تصدیق حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا کو حاصل تھی، آپ کی ان احادیث کے ساتھ وہ تصدیق ہم کوحاصل نہیں ہے۔ پس معلوم ہوا کہ ہم اللہ تعالی اور اس کے رسول برحق کے احکام کے ساتھ تصدیق اور ان کو تسلیم کرنے میں بے اندازہ خامیاں اور کمزوریاں رکھتے ہیں۔