حیدرآباد ۔ 18 ۔ جون : ہمارے نبی ﷺ کا ارشاد مبارک ہے ’ اللہ تعالیٰ اس شخص پر رحم نہیں کرتا جو دوسروں پر رحم نہیں کرتا ‘ ۔ دین اسلام اپنے ماننے والوں کو دوسرے انسانوں پر رحم کرنے ان کے ساتھ بہترین سلوک روا رکھنے اور مشکل حالات میں ہر لحاظ سے ان کی مدد کرنے کا حکم دیتا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ اہل ایمان میں دوسروں سے ہمدردی اور انسانیت کی مدد کا جذبہ کوٹ کوٹ کر بھرا ہوتا ہے ۔ ویسے تو انسان کسی نہ کسی طرح اپنی زندگی گذار لیتا ہے ۔ اپنی اور اپنے گھر والوں بالخصوص اولاد کے لیے وہ ہر مصیبت اٹھانے کے لیے تیار رہتا ہے ۔ ایسے انسان خود کے لیے جیتے ہیں لیکن جو دوسروں کے لیے جیتے ہیں ان کی بات ہی کچھ اور ہوتی ہے ۔ ہمارے شہر میں چند ایسی شخصیتیں اور ادارے ہیں جو دوسروں کے لیے جیتے ہیں ۔ دوسروں کی بھلائی کے کام کرتے ہیں ۔ مظلوموں ، بے بسوں ، بے کسوں اور حالات کے ستائے ہوئے لوگوں کے آنسو پوچھتے ہیں ۔ ایسے ہی لوگوں کی کوششوں سے روزنامہ سیاست ملی و فلاحی کام بڑی کامیابی کے ساتھ انجام دے رہا ہے ۔
قارئین 20 مئی 2014 کو دفتر سیاست میں کشن باغ کے متاثرہ مسلمانوں میں 6.4 لاکھ روپیوں کی تقسیم عمل میں آئی تھی اور یہ رقم سیاست ملت فنڈ کے توسط سے فیض عام ٹرسٹ اور عنایت ویلفیر چیارٹیبل ٹرسٹ تقسیم کی گئی تھی ۔ اس موقع پر فیض عام ٹرسٹ نے جو حقیقت میں فیض عام بنا ہوا ہے ۔ پروین سلطانہ نامی ایک غریب خاتون کو 10 ہزار روپئے کی امداد پیش کرنے کے ساتھ وعدہ کیا تھا کہ ان کی دکان کی دوبارہ شروعات کے لیے مزید مالی مدد کی جائے گی ۔ چنانچہ آج دفتر سیاست میں اس دختر ملت کو کرانہ کی دکان دوبارہ شروع کرنے کے لیے 25 ہزار روپئے ایڈیٹر سیاست جناب زاہد علی خاں کے ہاتھوں پیش کئے گئے ۔ اس موقع پر سکریٹری فیض عام ٹرسٹ جناب افتخار حسین ، ٹرسٹی جناب رضوان حیدر اور رکن عاملہ جناب علی حیدر عامر موجود تھے ۔ راقم الحروف نے دیکھا کہ فیض عام ٹرسٹ کی جانب سے دی گئی امداد وصول کرتے ہوئے پروین سلطانہ اور ان کے شوہر محمد لالہ خوشی سے سرشار ہوگئے تھے کیوں کہ وہ اپنی تباہ شدہ دکان میں دوبارہ اشیاء بھر کر ایک نئی شروعات کرنے جارہے ہیں ۔ پروین سلطانہ کے مطابق جس دن فسادات پھوٹ پڑے تھے اس وقت اشرار نے ان کی دکان کو پوری طرح تباہ کردیا تھا ۔ یہاں تک کہ ان لوگوں نے دکان و مکان کا چھت بھی باقی نہیں رکھا ۔ ان حالات میں روزنامہ سیاست اور فیض عام ٹرسٹ ان کی مدد کے لیے آگے آئے اور آج الحمدﷲ وہ اپنا مکان اور دکان تعمیر کرواچکی ہیں اور ایک دو روز میں کرانہ کی دکان بھی دوبارہ شروع کردیں گی ۔ اس خاتون نے گلوگیر لہجہ میں بتایا کہ سیاست اور فیض عام ٹرسٹ نے ہم میں ایک نئی امید اور نیا جذبہ پیدا کیا ہے ۔ وہ تین سال سے عرش محل کشن باغ میں کرانہ کی دکان چلاتے ہوئے اپنے 5 بچوں ( 4 لڑکیوں اور ایک بیٹے ) کی پرورش کررہی تھیں جب کہ ان کے شوہر بٹلر کا کام کرتے ہیں ۔ کام نہ ملنے پر اکثر بیکار ہی رہتے ہیں ۔ ا
ن حالات میں کرانہ کی دکان اس خاندان کے لیے نعمت غیر مترقبہ تھی ۔ پروین سلطانہ کے مطابق ان کی 4 لڑکیوں میں سے ایک کی شادی ہوچکی تین لڑکیاں جن کی عمریں 12 ، 10 اور 8 سال کی ہیں دینی مدرسہ میں تعلیم حاصل کررہی ہیں ۔ جہاں وہ عالمہ کا کورس کریں گی ۔ چھوٹے بیٹے کی عمر 6 سال ہے ۔ دکان اور مکان کی تباہی کے بعد یہ خاندان ہمدردان ملت کی جانب سے فراہم کردہ تیل ، چاول ، آٹا وغیرہ پر گذارا کررہا تھا ۔ اب اللہ کے فضل سے ان کے حالات میں بہتری آنے کی امید ہے ۔ پروین سلطانہ کے مطابق حکومت سے انہیں کسی قسم کی امداد نہیں ملی ۔ ایڈیٹر سیاست جناب زاہد علی خاں نے پروین سلطانہ کو بچوں کی تعلیم میں ممکنہ تعاون کا تیقن دیا جب کہ سکریٹری فیض عام ٹرسٹ جناب افتخار حسین نے بھی کہا کہ فیض عام ٹرسٹ پروین سلطانہ کے بچیوں اور بیٹے کے تعلیمی اخراجات برداشت کرنے کے لیے تیار ہے ۔ یہاں اس بات کا تذکرہ ضروری ہوگا کہ کشن باغ کے متاثرہ مسلمانوں میں 20 مئی کو جملہ 6.4 لاکھ روپیوں کی تقسیم عمل میں لائی گئی تھی ان میں سے 2.40 لاکھ روپئے فیض عام ٹرسٹ نے دئیے تھے اور اس رقم کی پولیس کی فائرنگ اور تلواروں کے حملہ میں زخمی مسلمانوں میں تقسیم عمل میں آئی تھی ۔ اس موقع پر متاثرین کی موجودگی میں جناب افتخار حسین نے ایک معذور لڑکے ابراہیم کی مدد کرنے اور پروین سلطانہ کی دکان دوبارہ شروع کروانے کا اعلان کیا تھا ۔ پروین سلطانہ نے امداد کے حصول کے بعد ایڈیٹر سیاست جناب زاہد علی خاں اور سکریٹری فیض عام ٹرسٹ کے ساتھ ساتھ ہمدردان ملت کے حق میں دعا کی اور کہا کہ وہ پوری محنت و جستجو کے ساتھ اپنی کرانہ کی دکان چلائیں گی ۔۔