کشن باغ میں فرقہ وارانہ تشدد، مسلم بستی نشانہ، پولیس فائرنگ میں 3 جاں بحق

l مسلح اشرار نے گھروں میں گھس کر دہشت مچائی، تلواروں کے ساتھ گھومتے رہے، لوٹ مار، آتشزنی اور املاک کی تباہی پر پولیس خاموش تماشائی
l جوائنٹ کمشنر گنگادھر کا بی ایس ایف کو فائرنگ کا حکم ،راجندر نگر میں کرفیونافذ، شہر حیدرآباد میں سراسیمگی، 20 زخمی ، گورنر نے صورتحال کا جائزہ لیا

حیدرآباد 14 مئی (سیاست نیوز) پرانے شہر کے علاقہ عرش محل کشن باغ میں آج صبح کی اوّلین ساعتوں میں بعض افراد کی جانب سے مبینہ طور پر مذہبی پرچم کو نذر آتش کردینے کا واقعہ پیش آیا جس کے نتیجہ میں فرقہ وارانہ تشدد بھڑک اُٹھا اور پولیس فائرنگ میں 3 مسلمان جاں بحق اور 20 افراد بشمول پولیس ملازمین زخمی ہوگئے۔ کمشنر پولیس سائبرآباد نے راجندر نگر پولیس اسٹیشن حدود میں غیر معینہ مدت کا کرفیو نافذ کردیا ہے اور بھاری پولیس فورس کو تعینات کردیا گیا ہے۔ کشن باغ میں بھڑک اُٹھے فرقہ وارانہ فساد کے بعد پرانے شہر کی تمام دوکانات کو پولیس نے بند کروادیا اور دونوں شہروں میں چوکسی اختیار کرلی۔

تفصیلات کے بموجب صبح تقریباً 6 بجے کے وقت علاقہ عرش محل واقع سکھ چھاؤنی میں چٹان پر موجود ایک مذہبی پرچم جزوی طور پر نذر آتش کرنے کا واقعہ رونما ہوا جس کے بعد سکھ اشرار نے نماز فجر کے بعد مکانات کو واپس ہونے والے مصلیوں پر حملہ کردیا۔ اِس واقعہ کی اطلاع ملنے پر راجندر نگر پولیس مقام واردات پر پہونچ گئی اور چبوترے کو جس پر پرچم نصب کیا گیا تھا ، فوراً آہک پاشی کرادی اور ایک نیا پرچم بھی نصب کردیا۔ اِس واقعہ کو بنیاد بناکر مقامی مسلح اشرار نے ہنگامہ آرائی شروع کردی اور پولیس کی موجودگی میں مسلمانوں کے مکانات میں دروازے توڑ کر گھس پڑے۔

سبلوں اور لاٹھیوں سے اندھا دھند حملہ کرتے ہوئے لوٹ مار کی اور اشیاء کو نذر آتش کردیا۔ اشرار نے دوکانات کے شٹرس اور کاروں پر حملہ کیا۔ سکھ اشرار کے ایک بڑے ہجوم نے انتہائی غریب بستی عرش محل میں جہاں روز مرہ کام کرتے ہوئے گزر بسر کرنے والے افراد رہتے ،کئی مکانات کو نشانہ بنایا اور خواتین سے بدسلوکی اور گالی گلوج کی۔ حالات کو بے قابو ہوتا دیکھ کر پولیس نے شمس آباد علاقہ میں متعین بی ایس ایف کے ایک بٹالین نمبر 148 (کیرالا بٹالین) کو وہاں پر طلب کرلیا۔ اشرار کی جانب سے پولیس کی موجودگی میں بربریت کے واقعہ پر برہم مسلم نوجوان کثیر تعداد میں اکٹھا ہوگئے اور سنگباری کا آغاز ہوگیا۔ کمشنر پولیس سائبرآباد مسٹر سی وی آنند نے حالات کو قابو میں کرنے کے لئے جوائنٹ کمشنر پولیس مسٹر وائی گنگا دھر کو عرش محل علاقہ میں بھیجا تھا لیکن مسٹر گنگادھر نے صبروتحمل کا مظاہرہ نہ کرتے ہوئے بارڈر سکیورٹی فورس دستوں کو نہتے مسلمانوں پر فائرنگ کرنے کا حکم دے دیا۔ بی ایس ایف عملہ نے احاطہ عیدگاہ عرش محل میں فائرنگ کردی جس کے نتیجہ میں محمد شجاع الدین خطیب عرف توفیق جو پیشہ سے میستری تھے، محمد فرید جس کی 2 ماہ قبل شادی ہوئی تھی اور محمد واجد علی عرف ولی جو پیشہ سے پتھر بچھانے کا کام کرتے تھے جاں بحق ہوگئے۔

مقامی مسلمانوں نے بتایا کہ نہتے مسلمانوں پر سکھ بی ایس ایف جوان نے فائرنگ کی۔ اتنا ہی نہیں بلکہ حیدرآباد اور سائبرآباد کے پولیس دستوں نے عرش محل علاقہ کے مکانات پر آنسو گیس شل برسائے اور اندھا دھند لاٹھی چارج بھی کیا۔ اشرار کی جانب سے اچانک حملہ اور پولیس فائرنگ کے باعث خواتین اور کمسن بچے خوفزدہ ہوگئے۔ اشرار کو پولیس نے کھلی چھوٹ دے دی تھی۔ جس کے نتیجہ میں اشرار نے تلواروں کے ساتھ علاقہ میں حیوانیت کا ننگا ناچ کیا اور کئی مسلمانوں کو زخمی کردیا۔ زخمی ہونے والے افراد میں بہادر پورہ کے 23 سالہ محمد محمود، 22 سالہ نواز خان (پولیس فائرنگ میں زخمی) کو کیر بنجارہ ہاسپٹل منتقل کیا جہاں پر سرجری کے ذریعہ گولی نکالی گئی۔ اِس واقعہ میں اشرار کی سنگباری میں زخمی ہونے والوں میں 20 سالہ سیف، 65 سالہ سعداللہ، 56 سالہ خلیل، 28 سالہ نواز الدین، 25 سالہ سکندر، 23 سالہ محمد صدام ، 32 سالہ محمد عارف، 32 سالہ یونس، 34 سالہ انور، 30 سالہ غوث الدین، 23 سالہ محمد نواز خان شامل ہیں۔ زخمیوں کو پریمیئر ہاسپٹل، نمس، اپولو، کیر بنجارہ اور عثمانیہ دواخانوں میں علاج کے لئے منتقل کیا گیا۔ اِس واقعہ میں کانگریس پارٹی میناریٹی سیل کنوینر چرن سنگھ زخمی ہوگیا۔ اشرار نے علاقہ میں موجود چھلہ مبارک کو بھی نذر آتش کردیا۔ ا

تنا ہی نہیں اشرار نے گھریلو جانور جیسے بکریوں کو تلواروں سے کاٹ دیا اور پانی کی ٹانکیوں کو توڑ دیا۔ پولیس نے کرفیو کے اعلان کے بعد عرش محل علاقہ میں کئی مقامات پر خاردار تار نصب کردیئے۔ اشرار کی جانب سے نذر آتش کئے گئے مکانات اور گاڑیوں کی آگ پر قابو پانے کیلئے فائر انجن کو طلب کیا گیا تھا۔ سائبرآباد کی اسپیشل آپریٹنگ ٹیم (ایس او ٹی) نے موقع واردات سے تقریباً 25 اشرار کو حراست میں لے کر تفتیش کے لئے نامعلوم مقام پر منتقل کردیا۔ بتایا جاتا ہے کہ چند مسلم نوجوانوں کو بھی پولیس نے حراست میں لے کر تحقیقات کا آغاز کردیا ہے۔ ذرائع نے بتایا کہ راجندر نگر پولیس نے اِس سلسلہ میں مختلف دفعات کے تحت کئی مقدمات درج کئے ہیں اور خاطیوں کی گرفتاری کے لئے خصوصی پولیس ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں۔ متاثرہ علاقوں میں کمشنر پولیس سائبرآباد مسٹر سی وی آنند، کمشنر پولیس حیدرآباد مسٹر انوراگ شرما اور ریاست کے اعلیٰ پولیس عہدیداروں نے معائنہ کیا اور پولیس عملہ کو چوکس رہنے کی ہدایت دی۔ بی ایس ایف کی فائرنگ کے بعد مقامی عوام برہم ہوگئے جس کے نتیجہ میں سائبرآباد پولیس نے بی ایس ایف دستہ کو وہاں سے فوری ہٹالیا اور ریاپڈ ایکشن فورس کو تعینات کردیا۔ ریاستی گورنر مسٹر ای ایس ایل نرسمہن نے پولیس کے اعلیٰ عہدیداروں کے ساتھ لاء اینڈ آرڈر کی صورتحال کا جائزہ لیا۔