کشمیر میں 49 جھارکھنڈ میں 61فیصد رائے دہی

سری نگر۔14ڈسمبر(سیاست ڈاٹ کام )علحدگی پسندوں کی بائیکاٹ کی اپیل اور انتہائی سرد موسم کی پرواہ نہ کرتے ہوئے 49فیصد رائے دہندوں نے آج دوپہر 2بجے تک جموں و کشمیر کے چوتھے مرحلے میں حق رائے دہی سے استفادہ کیا ۔ کئی مقامات پر حریف سیاسی جماعتوں کے حامیوں میں جھڑپ کے معمولی واقعات پیش آئے ۔ کشمیر کے تین اضلاع میں تمام 18اسمبلی حلقوں میں رائے دہی بحیثیت مجموعی پُرامن رہی ۔ سرکاری ترجمان نے بتایا کہ 18حلقوں بشمول گرمائی دارالحکومت سرینگر میں ایک اندازہ کے مطابق 37.46رائے دہندوں نے حق رائے دہی سے استفادہ کیا ۔ انہوں نے کہاکہ ضلع سامبا میں وجئے پور اسمبلی حلقہ میں پہلے 6گھنٹوں کے دوران سب سے زیادہ 63.44فیصد رائے دہی ریکارڈ کی گئی ۔ اسی طرح سرینگر میں حباکڈال حلقہ میں 13.44 فیصد رائے دہی ہوئی جو سب سے کم تھی ۔ شدید سردی کے باوجود پولنگ بوتھس پر عوام کی طویل قطاریں دیکھی گئیں ۔

سری نگر سٹی کے 8اسمبلی حلقوں میں جہاں گذشتہ اسمبلی انتخابات کے دوران رائے دہی کا فیصد کم تھا اس بار علحدگی پسندوں کی بائیکاٹ کی اپیل کے باوجود عوام کی کثیر تعداد نے حق رائے دہی سے استفادہ کیا ۔حلقہ اسمبلی سوناور سے چیف منسٹر عمر عبداللہ مقابلہ کررہے ہیں ‘ یہاں 33.85فیصد رائے دہی ریکارڈ کی گئی ۔ اس کے بعد حضرت بل حلقہ میں 22.7فیصد رائے دہی ہوئی ۔ جنوبی کشمیر میں حلقہ اننت ناگ سے پی ڈی پی سربراہ مفتی محمد سعید امیدوار ہیں ‘ یہاں 30.58فیصد رائے دہندوں نے ابتدائی 6گھنٹوں میں حق رائے دہی سے استفادہ کیا ۔ آج رائے دہی کو پُرامن بنانے کے مقصد سے سخت سیکیورٹی انتظامات کئے گئے تھے ۔ اس دوران جھارکھنڈ میں آج 15اسمبلی حلقوں پر رائے دہی ہوئی اور 61.08فیصد رائے دہندگان نے حق رائے دہی سے استفادہ کیا ۔ رائے دہی کا صبح 7بجے آغاز ہوا اور 5پانچ اختتام عمل میںآیا ۔ رائے دہی مجموعی طور پر پُرامن رہی ۔