سرینگر۔ 8 ڈسمبر (سیاست ڈاٹ کام) وادیٔ کشمیر میں آج علیحدگی پسند گروپس کے عام ہڑتال کے اعلان سے معمولات زندگی مفلوج ہوگئے جبکہ عہدیداروں میں شہر کے چند علاقوں میں وزیراعظم نریندر مودی کے اولین انتخابی جلسہ عام کے پیش نظر امتناعی احکام نافذ کردیئے۔ عہدیداروں نے شیر کشمیر کرکٹ اسٹیڈیم کے اطراف دو کیلومیٹر کے دائرے میں ناکہ بندی کردی۔ اسی اسٹیڈیم میں انتخابی جلسہ عام مقرر ہے۔ عوام کی نقل و حرکت پر پابندی عائد کردی گئی ہے۔ پولیس عہدیداروں کا کہنا ہے کہ صرف فوج کی گاڑیوں کو جلسے کے مقام تک آنے جانے کی اجازت ہے۔ عوام کو تلاشی کے بعد پیدل پیشرفت کی اجازت دی جارہی ہے۔ علیحدگی پسند گروپس بشمول حریت کانفرنس کے تمام گروپس نے وزیراعظم کے دورہ وادی کشمیر کے خلاف بطور احتجاج عام ہڑتال کا اعلان کیا ہے، جبکہ اسمبلی انتخابات جاری ہیں۔ دکانیں، دفاتر، تجارتی ادارے، تعلیمی ادارے بند رہے۔ سرکاری دفاتر اور بینکس میں حاضری متاثر رہی۔ عوامی ٹرانسپورٹ پوری وادی کی سڑکوں سے غائب تھا۔ خانگی کاریں، آٹو رکشا اور ٹیکسیاں چند مقامات پر چلتی نظر آئیں۔ وزیراعظم کے دورہ کے پیش نظر پورے شہر سرینگر میں سخت حفاظتی انتظامات کئے گئے تھے۔ نگرانی کے لئے اسٹیڈیم کے اوپر ہیلی کاپٹرس پرواز کررہے تھے۔ اطراف و اکناف کے علاقوں پر بھی نگرانی رکھی گئی تھی۔ فوج، پولیس، نیم فوجی سی آر پی ایف کافی تعداد میں شہر سرینگر میں تعینات کی گئی تھی۔ کئی چوراہوں پر جیسے ڈل گیٹ، سوناور، گپکر روڈ اور ٹی آر سی چوراہا کی ناکہ بندی کردی گئی تھی تاکہ صیانتی مشق کو عملی اعتبار سے یقینی بنایا جاسکے۔ شہر کے دیگر مقامات پر موٹر گاڑیوں کی تلاشی فوج کی جانب سے لی جارہی تھی۔ شہر کے دیگر علاقوں میں ادھر ادھر گھومنے والی موٹر گاڑیوں کی بھی تلاشی لی جارہی تھی۔ شہر میں داخلے کے مقامات پر رکاوٹیں کھڑی کردی گئی تھیں تاکہ عسکریت پسند سبوتاج کی کوئی کارروائی کرنے خفیہ طور پر شہر میں نہ داخل ہوسکیں۔ وزیراعظم کے جلسے کے مقام کے اطراف مکانوں کی چھتوں پر فوج کا عملہ مورچے سنبھالے ہوئے تھا۔ نریندر مودی فوج کے بادامی باغ ہیڈکوارٹرس کا بھی دورہ کرکے گزشتہ جمعہ اُری میں مہلک عسکریت پسند حملے میں ہلاک ہونے والے فوجیوں کو خراج عقیدت بھی پیش کریں گے۔