سرینگر ۔ 19اپریل ( سیاست ڈاٹ کام ) وادی کشمیر میں جہاں عہدیداروں نے کئی علحدگی پسندوں بشمول سید علی شاہ گیلانی اور میر واعظ عمر فاروق کو اُن کی قیامگاہ پر نظربند کررکھا ہے ‘ تاکہ ضلع بڈگاممیں ایک کمسن لڑکے کی ہلاکت کے خلاف احتجاج کرنے کی اُن کی کوششوں کو ناکام بنایا جاسکے ۔ میرواعظ کو کل صبح سے اُن کی قیامگاہ پر نظربند کیا گیا جب کہ گیلانی کی گھرپر نظربندی کا آج تیسرا دن ہے ۔ پولیس ارکان عملہ ان علحدگی پسند قائدین کی قیام گاہوں کے باہر تعینات کردیئے گئے ہیں تاکہ انہیں احتجاجی مظاہروں کی قیادت کرنے سے روکا جاسکے جو ریسیڈنسی روڈ پر کئے جانے والے ہیں ۔ سہیل احمد صوفی ایک کمسن لڑکا کل ہلاک ہوگیا جب کہ دیگر دو نوجوان زخمی ہوگئے ۔ میرواعظ اور گیلانی دونوں نے صوفی کی ہلاکت کے خلاف بڈگام بند کا اعلان کیا تھا ۔ گیلانی نے علحدگی پسند قائدین سے اپیل کی تھی کہ وہ آج دو بجے دن لال چوک میں پرتاپ پارک کے پاس جمع ہوجائیں تاکہ اپنا احتجاج درج کرواسکیں ۔ نربل ہنوزکشیدگی کا شکار ہے لیکن پُرامن ہے ۔ کثیر تعداد میں فوجی صورتحال پر قابو پانے کیلئے تعینات کئے گئے ہیں ۔
دو ملازمین پولیس بشمول ایک عہدیدار کو صوفی کی ہلاکت کے سلسلہ میں گرفتار کرلیا گیا ہے ۔ جب کہ متعلقہ پولیس اسٹیشن کے ایس ایچ او کے خلاف نگرانی کے فقدان کی بناء پر کارروائی کی گئی ہے ۔ حالانکہ علحدگی پسندوں نے سرینگر میں ہڑتال کا اعلان نہیں کیا تھا لیکن لال چوک کے اطراف و اکناف اکثر دکانیں نظم و قانون کے ابتر ہوجانے کے اندیشہ کے تحت بند رکھی گئیں لیکن دوپہر کے بعد ایک گھنٹہ مسلسل بارش کی وجہ سے جلوسی منتشر ہوگئے ۔ دریں اثناء ڈائرکٹر جنرل پولیس کے راجندر کمار نے پولیس ‘ سی آر پی ایف اور سراغ رسانی عہدیداروں کا کل رات دیر گئے ایک اجلاس طلب کیا تھا تاکہ صورتحال کا جائزہ لیا جاسکے ۔ پولیس کے ترجمان نے کہا کہ ڈی جی پی کو عہدیداروں نے موجودہ صورتحال کی تفصیلات سے واقف کروایا ۔ انہوں نربل واقعہ کی تفصیلات بھی بیان کی ۔ انہوں نے کہا کہ متاثرین کے ارکان خاندان کے ساتھ پورا انصاف کیا جائے گا اور واقعہ کے تمام حقائق کو پیش نظر رکھا جائے گا ۔