کشمیر میں آرٹیکل 370 کے نفاذ سے عوام کے استحصال کی اہم وجہ

کشمیری عوام بے یارومددگار، ہراسانی، عصمت ریزی اور قتل سے عوام میں برہمی : جسٹس ڈاکٹر جی یاتھی راجلو و دیگر کا سمینار سے خطاب

حیدرآباد۔22جولائی(سیاست نیوز) مصلح دستوں کو دی گئی خود مختاری کشمیر کے حالات میںبگاڑکی ایک اہم وجہ ہے۔ تلاشی کے نام پر کشمیریوں کو ہراسا ں کرنا ‘ کشمیری خواتین کی عصمت ریزی اور بے قصور کشمیریوں کا قتل مقامی افراد میں غم وغصہ میںاضافہ کا سبب بنا ہے۔ان حالات کو صحیح طور پرپیش کرنے میںجو کردار ذرائع ابلاغ کو ادا کرنا تھا ‘ اس میںبھی ناکامی دیکھنے کوملی ہے۔ آزادی کے بعد تقسیم ہند کا کشمیر پر حق کا جب معاملہ سامنے آیا تو اس وقت کے کشمیری حکمران ہری سنگھ نے خود مختار مملکت کے طور پر کشمیر کو برقرار رکھنے کی بات کہی تاہم جب پاکستان کے موجودہ مقبوضہ کشمیر پر قبضہ جمانا شروع کیااو رمرکزی کشمیر کی طرف نگاہیں جمایا۔ تب ہری سنگھ نے حکومت ہند سے مدد کی گوہار لگائی اور پاکستان کے حملہ کا ہندوستانی فوج نے منہ توڑ جواب دیا نتیجتاً اقوام متحدہ مداخلت اورجنگ بندی کا اعلان کرتے ہوئے مقبوضہ کشمیر کو چھوڑ کر ماباقی تمام کشمیر ہندوستان کے حوالہ کردیا۔ جسٹس ڈاکٹر جی یاتھی راجلو نے نیشنل یونین آف جرنلسٹ ( انڈیا) کے زیر اہتمام اور کے وی ریڈ ی لاء کالج کے اشتراک سے ’’ رول آف میڈیا‘ انڈر اسٹانڈنگ کشمیر ایشو‘‘کے عنوان پر منعقدہ قومی سمینار سے خطاب کے دوران ان خیالات کا اظہار کیا۔مسٹر ڈی کے دوبے ایڈوکیٹ سپریم کورٹ‘ جموں کشمیر اسٹڈی سنٹر( جے کے ایس سی) نئی دہلی نے کلیدی خطبہ پیش کیا جبکہ مسٹر اشوک ملک صدر نیشنل یونین آف جرنلسٹ انڈیا نے نگرانی کی اور مہمان مقررین کی حیثیت سے مسٹر وجئے کرانتی جرنلسٹ ایڈیٹر ڈی ڈی نیوز ‘ مسٹر یو لکشمن‘ ڈاکٹر راگھوپتی ریڈی‘ مسٹر ایس سری سیلم‘نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا۔انہوں نے کہاکہ ایک تہائی کشمیر پر پاکستان نے قبضہ جمالیا جس کو آج پاکستان کے زیر قبضہ کشمیر کہاجاتا ہے او رماباقی تین تہائی کشمیر ہندوستان کے حوالے کردیا گیا۔ پاکستان اور ہندوستان کے درمیان کشمیر میں بین الاقوامی سرحد 650کیلومیٹر تک پھیلی ہوئی ہے جبکہ 500کیلومیٹر سرحد پر باڑ لگادی گئی ہے۔ مسٹر یاتھی راجو نے اس با ت کو مانا کہ آرٹیکل 370کا نفاذ اور فوج کو دیئے گئے زائد اختیار کشمیری عوام کے استحصال کی وجہہ بنا ہے۔ کشمیرانسانی حقوق کی خلاف ورزی کی عام جگہ اس وقت بن گیا جب 1954میں نئے قوانین کے تحت کشمیری عوام کے اختیارات کومحدود کردیا گیاتھا۔ انہو ںنے کہاکہ کشمیری عوام کا ذریعہ آمدنی سیاحت تک محدود ہوکر رہ گیا ہے۔ ہندوستان میںرہنے والے کسی دوسری ریاست کے شہری کو کشمیر میںاراضی خریدنے کا حق حاصل نہیں ہے اور نہ ہی کوئی کشمیری غیرکشمیری کو اراضی فروخت کرسکتا ہے ۔انہوں نے کہاکہ اس پر ستم ظریفی یہ بھی ہے کہ اگر کوئی کشمیری لڑکی کسی غیرکشمیری لڑکے سے شادی کرتی ہے تو یہ لڑکی جائیداد کے حق سے محروم ہوجاتی ہے۔انہوں نے کہاکہ مرکز کی موجودہ بی جے پی حکومت نے2014میں اقتدار میں آنے پر جمو ں او رکشمیر سے آرٹیکل370کو برخواست کرنے کا وعدہ کے چار سال کے عرصہ کے باوجود اس کو ختم کرنے میں مرکز کی نریندر مودی حکومت ناکام رہی ہے ۔انہوں نے کہاکہ جموں او رکشمیر کی مقامی سیاسی پارٹی نیشنل کانفرنس نہیںچاہتی کہ ریاست سے آرٹیکل 370برخواست کیا جائے ان کا ماننا ہے کہ یہ اقدام جموں کشمیر عوام کے حقوق کو چھیننے کے مترادف اقدام ہوگا۔ مسٹر یاتھی راجو نے کہاکہ جموں ا ور کشمیر کے حالات میںتبدیلی مانو جیسے مرکز کو علاقائی جماعتوں پر انحصار کرنے جیسا ہے۔ انہوں نے کہاکہ سیاسی لوگ کشمیر کے حالات میںکبھی سدھار لانا نہیںچاہتے اوراس کا خمیازہ وہاں کی معصوم عوام کو بھگتنا پڑرہا ہے۔مسٹر ڈی کے دوبے نے کہا کہ آرٹیکل 370کوئی مسئلہ نہیںہے کیونکہ آزادی کے بعد ملک کی 565ریاستیںخود مختار مملکتوں میں جموں او رکشمیر بھی ایک تھا اور جس طرح دیگر تمام خود مختار حکومتوں کو آرٹیکل370کے تحت انڈین یونین میں ضم کیاگیا اسی طرح جموں او ر کشمیر کے ساتھ بھی ایسا ہی کیاگیامگر کشمیر او رانڈین یونین کے سیاست دانوں نے اپنے مفادات کی تکمیل کے لئے آرٹیکل 370کے استحصال پر خاموشی اختیار کی جس کے نتیجے میںجموں او رکشمیر میںحالات خراب ہوتے گئے۔ انہو ںنے کہاکہ جموں او رکشمیر ایک ایسی ریاست تھی جہاں سے متعلق انڈین یونین فیصلے تو کرتی مگر ان فیصلو ں کو نافذ کرنا ریاستی حکومت کے سپرد تھا۔ انہو ںنے کہاکہ آزای کے بعد ملک کے پہلے وزیرداخلہ سردار پٹیل کا جموں او رکشمیر کو چھوڑ کر ملک کی تمام ریاستوں میںنظم ونسق پرکنٹرول تھا جبکہ کشمیرکے لئے ایک علیحدہ وزیراعظم مقرر کیاگیا تھا۔ انہوں نے کہاکہ ابتداء میںکی گئی غلطیوں کا خمیازہ آج کشمیری عوام بھگت رہی ہے۔ جموں او رکشمیر میں آرٹیکل370جبرا نافذ نہیںکیاگیا بلکہ ملک کے دیگر تمام خود مختار ریاستوں کے سربراہان کی طرح ہری سنگھ نے بھی اس آرٹیکل پر دستخط کرتے ہوئے اس پر عمل کا یقین دلایاتھا جبکہ شہریت کے معاملے میںکشمیری قوانین دیگر ریاستوں سے منفرد ہیں ۔ انہوں نے مثال پیش کی کہ ریاست کے پہلے وزیر عبداللہ کے دور میںصفائی کرم چاریوں کی ہڑتال ہے جس سے ریاستی انتظامیہ ہڑتال سے نمٹنے کے لئے صوبہ پنجاب کے انتظامیہ سے رجوع ہوا جہاں انہیںسخت کشمیری قوانین کا حوالہ دیکر کرم چاریوں کو روانہ کرنے سے منع کردیا تھا کیونکہ کشمیر میں آرٹیکل 370کے نفاذ کے باوجو دریاستی قانون ساز اسمبلی کو یہ اختیار دیاگیا تھاکہ وہ حسب ضرورت آرٹیکل میں ترمیم کرتے ہوئے ریاست کیلئے فائدہ مند قوانین نافذکرے ۔ انہوں نے کہاکہ عبداللہ نے صوبہ پنچاب کے سربراہان کوان کے ملازمین کے لئے صفائی کرم چاریو ںکی شہریت دینے کا وعدہ کیا تھا جس کے بعد وہ کشمیر آئے اور صفائی کے کاکام انجام دیا مگر آج تک ان کی شہریت کے صداقت ناموں پر صفائی کرم چاری ہی تحریر ہے اگر چیکہ ان کے بچے پڑھ لکھ کر ڈاکٹر یا انجینئر بھی بن جائیں مگر انہیں کشمیر میںملازمت کرنی ہے تو وہ صفائی کرم چاری کاکام ہی کرسکتے ہیں۔ مسٹر اشوک ملک نے مقبوضہ کشمیر میں مقیم غیرمسلم اصحاب کے ساتھ ڈھائے جانے والے مظالم کا ذکر کیا۔