نئی دہلی ۔ 19 ۔ اگست (سیاست ڈاٹ کام) سخت گیر حریت کانفرنس کے قائد سید علی شاہ گیلانی نے جو آج نئی دہلی پہنچے پاکستان کے ہائی کمشنر عبدالباسط سے ملاقات کی ۔ دریں اثناء چند افراد نے گیلانی کی آمد کے خلاف پاکستانی ہائی کمیشن کے روبرو احتجاجی مظاہرہ کیا ۔ دہلی پولیس نے احتجاج پر قابو پانے چند افراد کو حراست میں لے لیا ۔ قبل ا زیں گیلانی نے ہند ۔ پاک معتمدین خارجہ سطح کے مذاکرات منسوخ کردینے حکومت ہند کے فیصلہ کو بدبختانہ قرار دیا ۔ گیلانی نے جو ہند مخالف لفاظی کیلئے شہرت رکھتے ہیں، رائے ظاہر کی کہ کشمیر ایک بین الاقوامی مسئلہ ہے اور وادیٔ کشمیر میں اس وقت تک قیام امن ممکن نہیں ہے جب تک کہ ہندوستان اور پاکستان اس مسئلہ کی خوشگوار یکسوئی نہ کرلیں۔ ہند۔پاک مذاکرات منسوخ کرنے کے نریندر مودی حکومت کے فیصلہ پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہندوستان کا رد عمل بچکانہ ہے اور کوئی اہمیت نہیں رکھتا۔ این ڈی اے حکومت نے25 اگست کی معتمدین خارجہ سطح کی بات چیت جو پاکستان کے ساتھ مقرر تھی، کل منسوخ کردی اور داخلی معاملات میں ’’مسلسل مداخلت‘‘ کو ناقابل قبول قرار دیا ۔ تاہم ہندوستان کے سخت موقف کے باوجود علحدگی پسند قائدین نے فیصلہ کیا کہ آج نئی دہلی میں ہائی کمشنر پاکستان سے ملاقات کی جائے ۔ گیلانی کے علاوہ اعتدال پسند حریت کانفرنس کے قائد میر واعظ ، عمر فاروق اور جے کے ایل ایف قائد یسین ملک آج ہائی کمشنر پاکستان سے ملاقات کریں گے ۔ قبل ازیں اعتدال پسند حریت کانفرنس کے ترجمان نے توثیق کی کہ میر واعظ عبدالباسط سے ملاقات کریں گے اور ہند۔پاک مذاکرات منسوخ کردینا بدبختانہ ہے ۔ پاکستان کے اس فیصلہ کو اچھے پڑوسیوں جیسے تعلقات بحال کرنے کی کوششوں کیلئے ایک دھکہ قرار دیا ۔
پاکستانی قائدین سے ربط دیرینہ روایت: پاکستان حکومت خواب خرگوش میں تھی:کانگریس
پاکستان کے دفتر خارجہ نے رد عمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ہند۔پاک مذاکرات سے قبل کشمیری قائدین سے پاکستان کا تبادلہ خیال دیرینہ روایت ہے تاکہ مسئلہ کشمیر پر ہند۔پاک مذاکرات کو بامعنی بنایا جاسکے ۔ دریں اثناء جموں و کشمیر کی برسر اقتدار نیشنل کانفرنس نے مذاکرات منسوخ کرنے کے فیصلہ کو ’’عجیب ‘‘ اور اپوزیشن پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی نے ’’ منفی تبدیلی‘‘ قرار دیا۔ کانگریس نے پاکستان کے ساتھ بات چیت منسوخ کردینے کے فیصلہ پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ پہلے تو حکومت ’’خواب خرگوش‘‘ میں تھی اور اب انتہائی ’’معمولی ردعمل‘‘ ظاہر کر رہی ہے۔
کانگریس نے حیرت ظاہر کی کہ معتمدین خارجہ سطح کی بات چیت کا فیصلہ ہی کیوں کیا گیا تھا۔ کل ہند کانگریس کے ہیڈکوارٹر پر پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سابق مرکزی وزیر تجارت آنند شرما نے کہا کہ سوال یہ نہیں ہے کہ بات چیت کیوں منسوخ کی گئی ، سوال یہ ہے کہ سب سے پہلے اس کا آغاز ہی کیوں کیا گیا تھا ۔ پاکستان کے بارے میں مرکز کی پالیسی غیر واضح اور ناکارہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ مستقل اور کارکرد پالیسی ہونی چاہئے۔ بی جے پی اور مودی نے پاکستان کے ساتھ تعلقات پر پہلے تو انتہاپسند نقطہ نظر اختیار کیا تھا اور بار بار یو پی اے پر تنقید کرتی رہی تھی۔ حالانکہ ممبئی دہشت گرد حملوں کے بعد ہندوستان نے جامع مذاکرات معطل کردیئے تھے۔ کانگریس کو حیرت ہے کہ اس سمجھوتے کے تحت بات چیت کے احیاء کا فیصلہ کیا گیا تھا ۔ کانگریس کے قائد منیش تیواری نے کہا کہ مودی حکومت مکمل طور پر خود ہی مصیبت کا شکار بن گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پہلے تو حکومت خواب خرگوش میں تھی اور اب انتہائی معمولی ردعمل ظاہر کیا جارہا ہے ۔ کانگریس کو حیرت ہے کہ قبل ازیں پاکستان کی جانب سے کافی اشتعال انگیزی کے باوجود وزیراعظم نریندر مودی نے کوئی ردعمل کیوں ظاہر نہیں کیا؟ حریت قائدین کی ہائی کمشنر پاکستان سے ملاقات کے بارے میں انہوں نے کہا کہ حریت نہ تو کشمیری عوام کی نمائندہ ہے اور نہ کوئی جمہوری تنظیم ہیں۔ اب جبکہ علحدگی پسند حکومت کو چیلنج کر رہے ہیں اور ہائی کمشنر پاکستان حکومت سے سخت لب و لہجہ میں بات کر رہے ہیں تو حکومت ہند آئندہ کیا کرے گی، کوئی نہیں جانتا۔ کانگریس قائد منیش تیواری نے پریس کانفرنس میں یہ تبصرہ کیا۔