جھارکھنڈ / رانچی 24 نومبر ( سیاست ڈاٹ کام ) جھارکھنڈ میں ماویسٹوں کی جانب سے سیاسی قائدین پر حملوں اور جموں و کشمیر میں علیحدگی پسندوں کی جانب سے بائیکاٹ کے اعلانات کے وابجود دونوں ریاستوں میں کل پہلے مرحلہ کی رائے دہی ہوگی جس کیلئے تمام تیاریاں مکمل کرلی گئی ہیں۔ پہلے مرحلہ میں جموں و کشمیر میں 15 حلقوں کا احاطہ کیا جائیگا جہاں 12 موجودہ ارکان اسبملی بشمول سات وزرا کے بشمول 123 امیدوار میدان میں ہیں۔ جھارکھنڈ میں ماؤیسٹوں کے اثر والی 13 نشستوں کیلئے ووٹ ڈالے جائیں گے ۔ جموں و کشمیر میں چیف منسٹر عمر عبداللہ کی زیر قیادت نیشنل کانفرنس اصل اپوزیشن جماعت پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی ‘ بی جے پی اور کانگریس کے خلاف ہمہ رخی مقابلہ کر رہی ہے ۔ جھارکھنڈ میں جھارکھنڈ مکتی مورچہ چیف منسٹر ہیمنت سورین کی قیادت میں اقتدار کو برقرار رکھنے کی جدوجہد کریگا جہاں اسے بی جے پی سے چیلنج کا سامنا ہے ۔ وزیر اعظم نریندر مودی ‘ کانگریس کی صدر سونیا گاندھی و نائب صدر راہول گاندھی کے علاوہ عمر عبداللہ نے اپنی اپنی پارٹیوں کیلئے انتخابی مہم چلائی ہے ۔ جہاں نریند مودی نے رائے دہندوں کو دونوں ہی ریاستوں میں خاندانی حکمرانی کے خلاف ووٹ دینے کی اپیل کی ہے سونیا و راہول گاندھی نے بی جے پی پر تقسیم پسندانہ ایجنڈہ کو فروغ دینے اور عوام کو جھوٹے وعدوں سے گمراہ کرنے کا الزام عائد کیا ہے ۔ جھارکھنڈ میں سکیوریٹی ایجنسیوں کو سخت چوکس کردیا گیا ہے کیونکہ انٹلی جنس اطلاعات ہیں کہ نکسلائیٹس کی جانب سے راشٹریہ جنتادل اور جھارکھنڈ وکاس منچ کے قائدین پر حملے کئے جاسکتے ہیں۔ انٹلی جنس ایجنسیوں کو پاکستان سے کام کرنے والے گروپس حزب المجاہدین ‘ جئیش محمد اور مقامی جموں و کشمیر کے عسکریت پسندوں کے مابین ہوئی بات چیت کے اقتباسات کا بھی پتہ چلا ہے ۔ پاکستانی گروپس نے یہ ہدایت دی ہے کہ وہ ریاست میں انتخابات کے بائیکاٹ کو یقینی بنائیں۔ کشمرے میں علیحدگی پسند گروپس جموں و کشمیر لبریشن فرنٹ اورحریت کانفرنس نے انتخابات کے بائیکاٹ کی اپیل کرتے ہوئے کل عام ہڑتال کا اعلان بھی کیا ہے ۔ جموں ڈویژن میں کل چھ نشستوں کیلئے ووٹ ڈائے جائیں گے جبکہ کشمیر ڈویژن میں پانچ اور لداخ میں چار حلقوں کیلئے کل رائے دہی ہوگی ۔ رائے دہی کا آغاز صبح آٹھ بجے ہوگا ۔ ریاست میں سات وزرا پہلے مرحلہ میں انتخابات کا سامنا کر رہے ہیں جن میں نظیر احمد خاں گریزی ( گریزز ) محمد اکبر لون ( سوناواری ) میاں الطاف ( کنگن ) سجاد کچلو ( کشٹوار ) عبدالمجید وانی ( ڈوڈا ) نوانگ رگزین جوا ( لیہہ ) اور وقار رسول وانی ( بانی ہال ) شامل ہیں۔ جھارکھنڈ میں مناسب سکیوریٹی فورسیس کو تمام 13 حلقوں میں متعین کردیا گیا ہے جن میں تقریبا نصف خواتین بھی شامل ہیں۔