کسی ٹھوس اقدام کا تذکرہ نہیں، صرف مجلس کی قصیدہ خوانی، کُل جماعتی قائدین کا اتہ پتہ نہیں
کریم نگر۔/25مئی، ( سیاست ڈسٹرکٹ نیوز) آلیر انکاؤنٹر واقعہ کے خلاف کریم نگر میں احتجاجی جلسہ عام منعقد ہوا ۔ مولانا محمد حسام الدین ثانی عاقل جعفر پاشاہ ، مولانا معراج الدین علی ، مولانا تقی رضا عابدی، مولانا ظفر احمد جمیل حسامی، جناب ضیاء الدین، جناب محمد خیر الدین، احمد الحسنی سعید قادری وغیرہ کے علاوہ محمد عباس سمیع، سید غلام احمد حسن بھی شریک تھے۔ احتجاجی جلسہ کے انعقاد کے تعلق سے کہا گیا تھا کہ یہ کُل جماعتی ہوگا لیکن ایسا معلوم ہورہا تھا کہ یہ مجلس کے زیر اہتمام انعقاد کیا گیا ہے۔ شہ نشین پر ایک جماعت اسلامی سے وابستہ جناب خیر الدین کے علاوہ کسی اور جماعت کا کوئی بھی نمائندہ موجود نہیں تھا۔ خواجہ علیم الدین سنی الجماعت کی طرف سے شریک تھے، شاید مسلم یونائٹیڈ فورم کے زیر اہتمام قبل ازیں تلنگانہ میں تین مقامات پر زبردست پیمانے پر احتجاجی جلسوں کا انعقاد عمل میں لایا جاچکا تھا یہ چوتھا جلسہ ہے۔احمد پاشاہ قادری رکن اسمبلی نے آلیر انکاؤنٹر کا ذکر کرتے ہوئے مجلس کے کارناموں کی مداح سرائی کی اور کہا کہ مجلس کا قیام ہی مسلمانوں کے مسائل کو حل کرنا ہے۔ مسلمانوں کے ساتھ ہورہی ناانصافی کے خلاف آواز بلند کرنا ہے لیکن آج تک کسی بھی معاملہ میں کس حد تک آواز بلند کی گئی اور کیا حاصل کیا ہے اس کا کوئی ذکر نہیں کیا گیا۔ انہوں نے جلسہ میں مجلس کے قائدین اسد الدین اویسی اور اکبر الدین اویسی کی خدمات کے گن گائے اور مجلس کی تعریف کرتے رہے اس طرح احتجاجی جلسوں کے کیا نتائج ظاہر ہورہے ہیں یا ہوں گے اس کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ مولانا محمد حسام الدین ثانی عاقل جعفر پاشاہ نے کہا کہ یونائٹیڈ مسلم فورم مسلمانوں کی اپنی جماعت ہے اس میں ہر مکتب فکر کے دانشور شریک ہیں اور یہ فورم جہاں کہیں مسلمانوں کے ساتھ زیادتی کے واقعات ہوتے ہیں اس کے خلاف اُٹھ کھڑی ہوتی ہے۔ انہوں نے بھی مطالبہ کیا کہ آلیر انکاؤنٹر کی عدالتی تحقیقات ہونی چاہیئے۔ انکاؤنٹر کے بعد اب تک فورم مطالبہ اور احتجاج کرتی آئی ہے یا کوئی ٹھوس عملی اقدام بھی اٹھایا گیا ہے اس تعلق سے ذکر نہیں کیا گیا۔ مولانا خیر الدین جماعت اسلامی شاخ کریم نگر اور مولانا خواجہ کلیم الدین ، مولانا خواجہ علیم الدین نے کہا کہ آج کی اہم ضرورت مسلمانوں میں اتحاد کی ہے ، متحد ہوکر مسلمانوں کے خلاف ہورہے مظالم کا سامنا کرنا ہوگا ۔ سید غلام احمد حسین، محمد عباس سمیع نے مطالبہ کیا کہ محکمہ پولیس میں فرقہ پرست ذہنیت کے ملازمین کے خلاف سخت کارروائی کی جانی چاہیئے۔ جناب رحیم الدین انصاری سکریٹری یونائٹیڈ فرنٹ نے خطاب میں حصہ نہیں لیا۔جلسہ میں کُل جماعتی اجلاس کا مذاق اُڑاتے ہوئے کہا کہ اس جلسہ میں سی پی آئی، کانگریس اورتلگودیشم کے قائدین موجود نہیں ہیں بلکہ یہ تو صرف مجلس کا جلسہ نظر آرہا ہے لیکن یونائٹیڈ فورم کا بیانر لگایا گیا تھا ۔ جناب عبدالرحیم قریشی صدر یونائٹیڈ فورم کے نام کا اعلان ہوا لیکن وہ جلسہ میں شریک نہیں ہوئے۔ فورم کے اراکین نے سید غلام احمد حسین کی رہائش گاہ پر ترتیب دیئے گئے ایک انتہائی پرتکلف عشائیہ میں شربت اور مرغ و ماہی بریانی دو گشتہ کے ساتھ ساتھ موسمی پھل، لذیذ میٹھے آم اور آئسکریم سے شکم سیر ہوئے۔ اس پُرتکلف عشائیہ میں خوش طبعی ، ہنسی مذاق کی گفتگو ہوئی۔ نمائندہ ’سیاست‘ اس پُرتکلف دعوت میں شریک تھا۔ اس دوران فورم کے سکریٹری سے ایک سوال پہلے تو انہوں نے سنی اَن سنی کرتے ہوئے نظر انداز کیا لیکن کچھ دیر بعد جواب دیا کہ مقصد سے تو میں بھی واقف نہیں ہوں احتجاجی جلسہ کا فیصلہ تھا جلسہ منعقد کیا جارہا ہے ۔ یونائٹیڈ فورم منتخبہ نہیں ہے بلکہ یہ خود ساختہ ہے کہہ کر ہنستے ہوئے جواب دیا۔ اس لئے وہ شاید جلسہ میں خاموش رہے اور کوئی تقریر وغیرہ نہیں کی۔ معلوم ہوا ہے کہ جلسہ گاہ میں بہت ہی کم تعداد تھی۔ ایک تو گرمی کی زیادتی، رات دیر گئے جلسہ کا آغاز ہوا اور شہر کے مضافاتی علاقہ میں جلسہ کا انعقاد بھی اس کی ایک وجہ ہوسکتی ہے۔ جلسہ کی صدارت کرنے والے جناب محمد عبدالرحیم قریشی اور دیگر کی جلسہ میں غیر حاضری بھی وجہ ہوسکتی ہے۔