کرن کمار ریڈی کی نئی پارٹی کا انتخابی نشان ’چپل ‘

وشاکھاپٹنم میں اجلاس سے سابق چیف منسٹر کا خطاب،تلگودیشم اور وائی ایس آر کانگریس پر تقسیم کی تائید کا الزام

حیدرآباد 16 مارچ( پی ٹی آئی)آندھرا پردیش کے سابق چیف منسٹر این کرن کمار ریڈی نے اپنی نو قائم شدہ جماعت جئے سمکھیا آندھرا پارٹی کے انتخابی نشان ’چپل‘ کو منظر عام پر لایا۔ متحدہ آندھرا پردیش کے موضوع پر گذشتہ ہفتہ نئی سیاسی جماعت کے قیام کے فوری بعد کرن کمار ریڈی نے وشاکھاپٹنم میں منعقدہ ایک جلسہ میں یہ اعلان کیا ۔ ان کی پارٹی کے ایک ذمہ دار نے کہا کہ جئے سمکھیا آندھرا پارٹی ( جے ایس پی) کو ’چپل‘ کو انتخابی نشان کی حیثیت سے استعمال کرنے الیکشن کمیشن کی منظوری حاصل ہوگئی ہے۔ جے ایس پی کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان کے مطابق انتخابی نشان کی حیثیت سے چپل کا انتخاب اس لئے کیا گیا کہ یہ نا صرف پہننے والے کا بوجھ اٹھاتی ہے بلکہ اس کی حفاظت بھی کرتی ہے ۔چپل مساوات کی علامت ہے اور وہ بلا لحاظ مذہب ذات پات درجات و نسل ہر کسی کو یکساں تحفظ فراہم کرتی ہے علاوہ ازیں غریب سے غریب ترین شخص بھی چپل پہن سکتا ہے ۔ پارٹی نے لارڈ رام کے کھڑاوؤں کا حوالہ بھی دیا جنہیں مد نظر رکھتے ہوئے بھرت نے رام راجیہ قائم کیا تھا۔ کرن کمار ریڈی جنہوں نے ریاست کی تقسیم کے خلاف بطور احتجاج چیف منسٹر کے عہدہ سے استعفی دے دیا تھا 12 مارچ کو جے ایس پی کے قیام کا اعلان کیا
تھا اور اس جلسہ عام میں جرمنی کے اتحاد کیلئے توڑی گئی دیوار کے ایک ٹکڑے کی نمائش کی گئی تھی جس کا مقصد یہ بتانا تھا کہ سیما آندھرا اور تلنگانہ ایک بار پھر متحد کئے جاسکتے ہیں۔

اس دوران کرن کمار ریڈی نے آئی ٹی ماہرین کے اجلاس سے خطاب کیا اور کہا کہ وہ انتخابات میں کامیاب مقابلے کیلئے سیما آندھرا میں سماج کے دیگر تمام طبقات سے بات چیت کرنا چاہتے ہیں۔ کرن کمار ریڈی نے وشاکھاپٹنم میں خطاب کے دوران کہا کہ یو پی اے اور کانگریس ہائی کمان نے ریاست کی تقسیم کے ذریعہ سیما آندھرا عوام کے جذبات کو مجروح کیا ہے انہوں نے کہا کہ وہ اپنی بقاء کیلئے پارٹی نہیں بنائے ہیں بلکہ یہ ایک عوامی پارٹی ہے جو متحدہ ریاست کیلئے جدوجہد کرے گی۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ تلگودیشم پارٹی کے صدر اور وائی ایس آر کانگریس پارٹی نے ریاست کی تقسیم کے لئے خفیہ مدد کی تھی۔ عوام کو چاہئے کہ انتخابات کے موقع پر وہ ان افراد کو ووٹ دینے سے پہلے دو مرتبہ سونچے کہ کس نے ریاست کی تقسیم کی تائید کی تھی اور کس نے متحدہ ریاست کیلئے جدوجہد کی۔ کرن کمار ریڈی نے الزام عائد کیا کہ چندرا بابو نائیڈو نے ہائی ٹیک سٹی کے قیام کے سواء حیدرآباد کی ترقی کیلئے کچھ نہیں کیا ۔ انہوں نے دعوی کیا کہ تلگودیشم کی حکمرانی کے دوران ریاست قرض کے بوجھ تلے دب گئی تھی۔ سابق ارکان پارلیمنٹ اور سابق وزراء و ارکان اسمبلی نے بھی اس جلسہ سے خطاب کیا۔