لگاتار دوسری میعاد پر حکمرانی کی نئی تاریخ بنانے سدا رامیا کا عہد، دیوے گوڑا کی جنتادل (ایس) کو بادشاہ گر کا موقف
بنگلور۔11 مئی (سیاست ڈاٹ کام) کرناٹک میں نئی اسمبلی کے انتخاب کے لیے ہفتہ کو ووٹ ڈالے جائیں گے۔ جہاں سہ رخی مقابلہ کے لیے گزشتہ تین ماہ سے انتہائی تلخ وتند اور طوفانی مہم جاری تھی۔ حکمران کانگریس اور بی جے پی اقتدار کے اصل دعویدار ہیں جبکہ سابق وزیراعظم ایچ ڈی دیوے گوڑا کی جے ڈی (ایس) توقع ہے کہ حکومت سازی میں بادشاہ گر کا رول ادا کرے گی۔ اسمبلی کے 224 کے منجملہ 223 حلقوں میں 2600 امیدوار اپنی سیاسی قسمت آزمارہے ہیں اور 4.98 کروڑ ووٹرس اپنے حق رائے دہی کے استعمال کے ذریعہ ان کی قسمت کا فیصلہ کریں گے۔ تقریباً 5 کروڑ ووٹرس میں 4.52 مرد، 2.44 کروڑ خواتین اور 4,552 زنخے شامل ہیں۔ الیکشن کمیشن کے ذرائع نے کہا کہ 56,600 پولنگ اسٹیشنس قائم کئے گئے ہیں۔ ان کے علاوہ چند ضمنی بوتھس کا انتظام بھی کیا گیا ہے۔ آزادانہ وغیر جانبدارانہ انتخابات کے انعقاد کو یقینی بنانے کے لیے 3.5 لاکھ اہلکار تعینات کیے گئے ہیں۔ قبائیلی علاقوں کے بعض پولنگ بوتھس مقامی طور طریقوں کی جھلک پیش کریں گے۔ یہ پہلا موقع ہوگا کہ جسمانی طور پر معذور سرکاری ملازمین کو بھی بعض منتخب پولنگ اسٹیشنوں پر تعینات کیا جائے گا۔ ذرائع نے کہا کہ کثیر تعداد میں ووٹروں کی موجودگی والے پولنگ اسٹیشنوں پر قطار کے موقف کے بارے میں ایک خصوصی ایپ کے ذریعہ تازہ ترین اطلاعات فراہم کی جائیں گی۔ کرناٹک میں 1985 سے رام کرشنا ہیگڈے کی قیادت میں جنتادل نے لگاتار دوسری میعاد کے لیے انتخابی کامیابی حاصل کی تھی جس کے بعد سے تاحال کوئی بھی جماعت لگاتار دوسری میعاد کے لیے برسر اقتدار نہیں آسکی ہے۔ تاہم اقتدار پر دوبارہ واپسی کے لیے حکمراں کانگریس ایڑی چوٹی کا زور لگارہی ہے کیوں کہ پنجاب کے بعد کرناٹک ہی واحد بڑی ریاست ہے پارٹی کو اقتدار حاصل ہے۔ بی جے پی بھی کرناٹک میں اپنی حکومت کے قیام کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگارہی ہے اور اس پارٹی کے صدر امیت شاہ کا کہنا ہے کہ ریاست کرناٹک بی جے پی کیلئے جنوبی ہند کا باب الداخلہ ثابت ہوگی۔ بی جے پی اس ریاست میں صرف ایک مرتبہ 2008ء تا 2013ء اقتدار پر فائز رہ چکی ہے لیکن اس کے بعد بی جے پی کو یہاں حکمرانی کا پھر کوئی موقع نہیں مل سکا ہے۔ بی جے پی کا پانچ سالہ دور اقتدار پارٹی کے داخلی جھگڑوں رشوت ستانی اور دیگر تنازعات کی نذر ہوگیا تھا۔ اس دوران بی جے پی کے تین چیف منسٹرس تبدیل کئے جاچکے تھے اور چیف منسٹر کے عہدہ کے لیے بی جے پی کے امیدوار بی ایس یدی یورپا ماضی میں رشوت ستانی کے الزامات کے تحت جیل میں بھی رہ چکے ہیں۔ جے ڈی (ایس) کے ریاستی صدر ایچ ڈی کمارا سوامی نے اس یقین سے اعتراف کیا کہ ان کی پارٹی بقا کی جدوجہد سے گزررہی ہے جو گزشتہ ایک دہائی سے اقتدار سے باہر ہے لیکن کانگریس کو پورا بھروسہ ہے کہ وہ حکمراں جماعت کو دوبارہ اقتدار نہ ملنے سے متعلق نحوست اور بدشگونی کو ختم کرتے ہوئے اقتدار پر دوسری مرتبہ قبضہ کے ساتھ ایک نئی تاریخ لکھے گی۔ سدارامیا نے ٹوئٹر پر لکھا کہ ’’مجھ سے اکثر کہا جاتا رہا ہے کہ تاریخ میرے حق میں نہیں ہے کیوں کہ کرناٹک میں ایک طویل عرصہ سے کوئی بھی حکومت دوسری مرتبہ منتخب نہیں ہوسکی ہے۔
کرناٹک چناؤ: 1.40 لاکھ سکیورٹی جوان تعینات
بنگلورو11مئی (سیاست ڈاٹ کام )کرناٹک کی ڈائریکٹرجنرل آف پولیس نیل منی راجو نے آج کہا کہ اسمبلی کی 223سیٹوں پر غیرجانبدارانہ پولنگ کو یقینی بنانے کے لئے سکیورٹی بندوبست کو چست درست بنانے کی غرض سے 1.40 لاکھ سے زیادہ سکیورٹی جوانوں کو تعینات کیا گیاہے اور سماج دشمن عناصر پر سخت نظر رکھنے کو کہا گیاہے۔راجو نے یہاں پریس کانفرنس میں کہا کہ ریاست میں غیرجانبدارانہ اور شفاف انتخابات کرانے کی غرض سے سکیورٹی کے لئے چپے چپے پر لویس اور دیگر فورسز کے جوانوں اورافسران کو ذمہ داری سونپی گئی ہے ۔اس کے لئے کئی دیگرریاستوں سے بھی پولیس فورسزطلب کی گئی ہیں اوربڑی تعدادمیں ایس ایس بی اور آئی ٹی بی پی اور دیگر نیم فوجی دستوں کے جوانوں کو تعینات کیا گیاہے ۔ریاست کی 15ویں اسمبلی کے انتخابات کے لئے 58302پولنگ مراکز قائم کئے گئے ہیں جن میں سے 12000حساس اور 21ہزار464مراکز کو کم حساس مانتے ہوئے پولنگ مراکز کے باہر نیم فوجی دستوں کے جوانوں کو تعینات کیا گیا ہے ۔ریاست کی سرحدوں پر چوکسی بڑھادی گئی ہے ۔سماج دشمن عناصر پر گہری نظر رکھی جارہی ہے اور کئی لوگوں کو احتیاطی اقدام کے طور پر حراست میں لیا گیاہے اور آج بھی پولیس مختلف علاقوں میں اس طرح کی کارروائی کرسکتی ہے ۔