کرناٹک انتخابات میں بی جے پی کی جھوٹی تشہیر آشکار

ملیشیاء میں ہراسانی کا شکار خاتون کا استعمال، پروپگنڈے کے ویڈیوز جھوٹے ثابت

حیدرآباد۔13مئی (سیاست نیوز) کرناٹک انتخابات کے نتائج آنے باقی ہیں لیکن کرناٹک اسمبلی انتخابات کے دوران بھارتیہ جنتا پارٹی نے سوشل میڈیا کا استعمال کرتے ہوئے جو جھوٹی اطلاعات عوام کے درمیان پھیلائی ہیں ان کی تفصیلات منظر عام پر آچکی ہیں اور یہ ثابت ہوتا جا رہاہے کہ کرناٹک میں اقتدار کے حصول کیلئے بھارتیہ جنتا پارٹی نے جھوٹی خبروں کا سہارا لینے سے بھی گریز نہیں کیا بلکہ جھوٹی خبروں کی خوب تشہیر کی اور اس میں بی جے پی کے آئی ٹی سیل سے بھی خوب مدد حاصل کی گئی ۔ ملیشیاء میں ہراسانی کا شکار خاتون جس نے مدد کیلئے اپنا خود کا ویڈیو بنا کر فیس بک پر اپ لوڈ کیا تھا اس ویڈیوکو بھارتیہ جنتا پارٹی نے بنگلورو کی خاتون کے طور پر پیش کرتے ہوئے یہ تاثر دیا کہ کانگریس کے دوراقتدار میں خواتین مظلوم ہیں اور حکومت ان کی مدد کیلئے تیار نہیں ہے۔ اسی طرح فرقہ واریت کو ہوادینے کیلئے بھی کانگریس امیدواروں کے متعلق جھوٹا پروپگنڈہ کیا گیا اور ضمیر احمد کے متعلق ایک ویڈیو کو پھیلاتے ہوئے یہ کہا گیا کہ ضمیر احمد کامیاب ہونے کی صور ت میں ہندوؤں کا خون بہائیں گے اور یہ سلسلہ جاری رہے گا۔ فرقہ واریت کو ہوا دینے والی اس ویڈیو کو بھی سوشل میڈیا کے ذریعہ کرناٹک میں خوب پھیلایا گیا اور بھارتیہ جنتا پارٹی کا آئی ٹی سیل اس میں کافی سرگرم رہا۔کرناٹک اسمبلی انتخابات میں بھارتیہ جنتا پارٹی نے پاکستان کو بھی نہیں بخشا بلکہ انڈین یونین مسلم لیگ کے پرچم کو جو کہ کانگریس کی انتخابی ریالی میں لہرایا جار ہا تھا اسے پاکستان کے پرچم کے طور پر پیش کرتے ہوئے یہ تاثر دیا گیا کہ کانگریس پاکستان کی ہمدرد ہے اور پاکستانی پرچم کے ساتھ مسلمانوں کو راغب کرتے ہوئے ووٹ حاصل کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ altnews کی جانب سے کی گئی تحقیق کے دوران اس بات کا انکشاف کیا گیا کہ کرناٹک انتخابات کی انتخابی مہم کے دوران کانگریس اور بھارتیہ جنتا پارٹی دونوں کی جانب سے استعمال کی گئی جھوٹی خبروں پر تبصرہ سامنے آیا ہے جس میں بی جے پی کی جانب سے پھیلائی گئی خبروں کا جائزہ لینے پر یہ بات واضح ہو رہی ہے کہ بھارتیہ جنتا پارٹی نے نہ صرف جھوٹی خبروں کی تشہیر کی بلکہ ایسی جھوٹی خبروں کی تشہیر کی جو فرقہ وارانہ منافرت کو فروغ دینے والی ہیں۔ بھارتیہ جنتا پارٹی کے سوشل میڈیا نے بی بی سی کا لوگو استعمال کرتے ہوئے چلائی گئی ایگزٹ پول کی جھوٹی رپورٹ جس میں بھارتیہ جنتا پارٹی کی کامیابی دکھائی گئی اسے بھی پھیلاتے ہوئے عوامی تائید حاصل کرنے کی کوشش کی اور اس مسئلہ پر بی بی سی کی جانب سے تردید کی گئی کہ کرناٹک انتخابات میں بی بی سی نے کوئی سروے نہیں کروایا ہے اور نہ ہی اس سلسلہ میں کوئی سروے رپورٹ جاری کی گئی ہے۔ وزیر اعظم نریندر مودی کی وارناسی کی ریالی کی ویڈیو کو اوڈوپی کرناٹک میں ہوئی انتخابی ریالی کے طور پر پیش کرتے ہوئے یہ تاثر دینے کی کوشش کی گئی کہ بھارتیہ جنتا پارٹی کی ریالیوں میں عوام کی بھاری تعداد شرکت کررہی ہے اور کرناٹک میں وزیر اعظم کا پرجوش استقبال کیا جا رہا ہے۔اس کے علاوہ جنوری 2018میں ہوئے ایک قتل کے واقعہ کو بھی بھارتیہ جنتا پارٹی نے فرقہ وارانہ رنگ دیتے ہوئے سوشل میڈیا پر کانگریس حکومت سے سوال کرتی نظر آئی کہ آیا جہادیوں کو سزاء کب دی جائے گی جنہوں نے قتل اور عصمت ریزی کی کوشش کی ہے۔ اسی طرح کانگریس نے بھی کرنسی نوٹ پکڑے جانے کے پرانے ویڈیو کا ایسے استعمال کیا جیسے وہ ابھی پکڑے گئے ہیں کانگریس کی جانب سے ان ویڈیو کو پھیلایا گیااسی طرح بعض مکتوبات کو بھی سوشل میڈیا کے ذریعہ پھیلاتے ہوئے رائے دہندوں پر اثر انداز ہونے کی کوشش کی گئی ۔