کرسمس کے دن اسکولس کھلے رکھنے سرکاری ہدایات پر پارلیمنٹ میں ہنگامہ آرائی

نئی دہلی ۔ 15 ڈسمبر ۔ ( سیاست ڈاٹ کام ) ایودھیا میں رام مندر کی عاجلانہ و تیز رفتار تعمیر کے مطالبہ اور کرسمس کے دن اسکولس کھلے رکھنے کی مبینہ سرکاری ہدایات پر لوک سبھا میں زبردست شوروغل اور ہنگامہ آرائی کے سبب اسپیکر کو مجبوراً اجلاس ملتوی کرنا پڑا ۔ کانگریس اور بائیں بازو جماعتوں کے ارکان نے اُس وقت زبردست احتجاج کیا جب شیوسینا کے رکن چندرکانت کھیڑے نے وقفہ صفر کے دوران ایودھاے میں رام مندر کی عاجلانہ و تیزرفتار تعمیر کا مطالبہ کیا اور دعویٰ کیا کہ اٹل بہاری واجپائی نے بحیثیت وزیراعظم اپنے دور حکومت میں وعدہ کیا تھا کہ ’’قطعی اکثریت کے حصول پر ہی ایسا کیا جاسکتا ہے ‘‘۔ شیوسینا رکن کھیڑے نے کہا کہ ’’اب ہمیں اکثریت حاصل ہے اور میں مطالبہ کرتا ہوں کہ ہمارے وزیراعظم نریندر مودی کی معیاد کے دوران ہی مندر تعمیر کی جائے ‘‘ ۔ لیکن کھیرے کے ریمارکس کے خلاف اپوزیشن ارکان نے شدید احتجاج کیا۔ شیوسینا کے رکن نے مزید کہا کہ ’’ایودھیا تنازعہ کے ایک قدیم ترین فریق ہاشم انصاری بھی چاہتے ہیں کہ مندر تعمیر کیا جائے ‘‘ اور چند مسلم خواتین بھی ہیں جنھوں نے و زیراعظم سے ملاقات کی وہ بھی مندر تعمیر کرنا چاہتی ہیں‘‘۔ اس دوران اسپیکر سمترا مہاجن نے مداخلت کرتے ہوئے کہا کہ یہ مسئلہ عدالت میں زیرتصفیہ ہے لیکن بی جے پی اور شیوسینا کے ارکان نے میزیں تھپتھپاتے ہوئے کھیرے کی تائید کی ۔ تاہم کانگریس اور بائیں بازو کی جماعتوں کے ارکان نے اپنا احتجاج جاری رکھا۔ اس کے فوری بعد کانگریس کے رکن کے سی وینو گوپال نے سابق وزیراعظم اٹل بہاری واجپائی کی سالگرہ کے موقع پر 25ڈسمبر کو ’’یوم بہتر حکمرانی منانے کیلئے کرسمس کے دن تمام اسکولس کھلے رکھنے حکومت کی مبینہ ہدایات کا مسئلہ اُٹھایا ۔ وینو گوپال نے الزام عائد کیا کہ مضمون نویسی کے مقابلوں کے بہانے کرسمس تہوار کے دن اسکول کھلے رکھنے کی ہدایات جاری کی گئی ہیں۔ کانگریس کے رکن وینو گوپال نے کہاکہ ’’عیسائیوں کے واحد سالانہ تہوار کرسمس کے دن اسکولس کھلے رکھنے کی ہدایت سے اقلیتوں کے جذبات مجروح ہوئے ہیں۔ ہم ایک سیکولر جمہوری ملک میں رہتے ہیں۔ کیا یہی بہتر حکمرانی ہے ؟ ۔ واجپائی کی سالگرہ منانا تو ٹھیک ہے لیکن خود واجپائی بھی اس طریقہ کار کو پسند نہیں کریں گے ‘‘۔ کانگریس اور بائیں بازو کے ارکان نے وینو گوپال کی تائید کی اور نعرہ لاتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ اس مسئلہ پر وضاحت کرے ۔ اس دوران آل انڈیا انا ڈی ایم کے کے ارکان بھی اپنی نشستوں سے اُٹھ گئے اور حکومت سے اس مسئلہ پر وضاحت کرنے کا مطالبہ کیا۔ اس دوران حکمراں اور اپوزیشن ارکان کے درمیان تلخ ریمارکس کا تبادلہ جاری رہا ۔ کانگریس اور بائیں بازو کے ارکان ایوان کے وسط میں پہونچ گئے ۔ شدید شوروغل اور ہنگامہ آرائی کے دوران اسپیکر نے اجلاس ملتوی کردیا ۔