کجریوال ۔ نجیب جنگ تصادم میں شدت، وزیراعظم سے مداخلت کی خواہش

نئی دہلی ۔ 20 مئی (سیاست ڈاٹ کام) چیف منسٹر دہلی اروند کجریوال نے وزیراعظم نریندر مودی سے لیفٹننٹ گورنر نجیب جنگ کے ساتھ ان کی صف آرائی میں مداخلت کی درخواست کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ مرکز نجیب جنگ کو ریاست پر بالواسطہ حکومت کیلئے استعمال کررہی ہے جبکہ نجیب جنگ نے کجریوال کی جانب سے تمام سرکاری عہدیداروں کے تقررات منسوخ قرار دینے کے بعد ان کے خلاف جارحانہ موقف اختیار کرلیا۔ کجریوال نے مودی سے خواہش کی کہ عاپ حکومت کو آزادانہ کام کرنے کا موقف دیا جائے اور نجیب جنگ کے احکام کو کہ تمام فائلیں وزراء کے بجائے راست ان کو پیش کی جائیں، غیردستوری قرار دیا۔ کجریوال کے نام اپنے مکتوب میں نجیب جنگ نے کہا تھا کہ وہی آئی اے ایس عہدیداروں کے تقررات اور تبادلوں کا صرف وہی اختیار رکھتے ہیں۔ سرکاری عہدیدار حیران ہیکہ گورنر اور چیف منسٹر کے درمیان صف آرائی کے دوران انہیں کس کے احکام کی تعمیل کرنی چاہئے۔ سیسوڈیا نے سینئر عہدیداروں سے ملاقات کرکے انہیں تیقن دیا کہ تفصیلی رہنمایانہ خطوط مختلف مسائل سے خاص طور پر لیفٹننٹ گورنر کے اختیارات کے بارے میں جلد ہی جاری کئے جائیں گے۔ کجریوال نے سرکاری عہدیداروں بشمول چیف سکریٹری سے کہا کہ لیفٹننٹ گورنر کے کسی بھی حکم پر عمل آوری سے پہلے ان سے مشاورت کی جائے۔ گورنر نے کہا کہ چیف منسٹر کے عہدیداروں کو احکام دستور کی خلاف ورزی ہے۔ دریں اثناء چیف منسٹر دہلی کجریوال نے سرکاری عہدیداروں کو راست احکام جاری کرنے کے لیفٹننٹ گورنر کے اختیارات کو چیلنج کرتے ہوئے دستور کی متعلقہ دفعات کی وضاحت طلب کی ہے۔