حیدرآباد 11 فبروری (سیاست نیوز) کانگریس سے خارج شدہ چھ ارکان پارلیمنٹ نے کہاکہ اب ہم آزاد ہیں۔ تلنگانہ بِل کو پارلیمنٹ میں پیش کرنے سے روکنے کیلئے کھل کر جدوجہد کریں گے۔ کانگریس پارٹی ہمیں نظرانداز کرکے بی جے پی کی آؤ بھگت کررہی ہے۔ برطرف شدہ 6 ارکان پارلیمنٹ نے ارون کمار کی قیامگاہ پر ہنگامی اجلاس منعقد کرتے ہوئے مستقبل کی حکمت عملی تیار کی ہے۔ مسٹر رایا پاٹی سامبا شیواراؤ نے کہاکہ کانگریس نے ہمیں پارٹی سے برطرف کرتے ہوئے بہت بڑی غلطی کی ہے۔ برطرف کرنے سے قبل ہمیں نوٹس بھی نہیں دی گئی جس کی ہم سخت مذمت کرتے ہیں۔ اب ہم آزاد ہیں، اپنے احتجاج میں مزید شدت پیدا کریں گے۔ کانگریس پارٹی سیما آندھرا اور تلنگانہ کے کانگریس قائدین کو ایک پلیٹ فارم پر بٹھاکر تلنگانہ مسئلہ حل کرنے کے بجائے تلنگانہ مسئلہ کو حل کرنے کیلئے ہمیں پارٹی سے خارج کرتے ہوئے بی جے پی کے پیر چھو رہی ہے۔
مسٹر سائی پرتاپ نے کہاکہ تلنگانہ ریاست کی تشکیل کو روکنے کیلئے ہم اپنے احتجاج میں مزید شدت پیدا کریں گے۔ اب کانگریس کے وہپ کا ہم پرکوئی اثر نہیں ہوگا۔ ہم پارلیمنٹ میں کھل کر تلنگانہ کی مخالفت کریں گے۔ ہمیں معطل کرتے ہوئے کانگریس پارٹی نے ہم پر بہت بڑا احسان کیا ہے۔ مسٹر ہرش کمار نے کہاکہ ہمیں پارٹی سے معطل کیا گیا ہے مگر ہم پارلیمنٹ کے رکن برقرار ہیں۔ پارلیمنٹ میں تلنگانہ بِل کو پیش ہونے نہیں دیں گے۔ مسٹر سبم ہری نے کہاکہ بہت پہلے ہی ہمیں پارٹی سے معطل کردینا چاہئے تھا مگر نہیں کیا گیا ہم ہمارے علاقہ کے عوامی جذبات کو مزید شدت کے ساتھ پیش کریں گے۔ لگڑاپاٹی راج گوپال نے کہاکہ پارٹی سے برطرف کرنے پر ہم ڈرنے گھبرانے والے نہیں ہیں۔ عوامی جذبات پیش کرنے پر برطرف کیا گیا۔ اپوزیشن پارٹی بی جے پی کو مطمئن کرنے کیلئے ہمیں بلی کا بکرا بنایا گیا ہے۔ پھانسی دینے سے پہلے بھی مجرم سے اُس کی آخری خواہش پوچھی جاتی ہے مگر ہمیں پارٹی سے برطرف کرنے سے قبل نوٹس بھی نہیں دی گئی۔