پارٹی چھوڑ کر واپس ہونے والوں پر بھی غور کرنے کمیٹی تشکیل
حیدرآباد ۔ 17 ۔ جولائی : ( سیاست نیوز ) : جیسے جیسے انتخابات قریب آرہے ہیں ویسے ویسے سیاسی سرگرمیاں عروج پر پہونچ رہی ہیں ۔ کانگریس پارٹی نے دوسری جماعتوں سے کانگریس میں شامل ہونے کے خواہش مند قائدین اور پارٹی سے مستعفی ہو کر دوبارہ کانگریس میں شامل ہونے میں دلچسپی رکھنے والے قائدین کے ناموں کا جائزہ لینے کے لیے کانگریس نے ایک 7 رکنی کمیٹی تشکیل دی ہے ۔ کمیٹی میں صدر تلنگانہ پردیش کانگریس کمیٹی اتم کمار ریڈی ورکنگ پریسیڈنٹ ملو بٹی وکرامارک قائدین اپوزیشن کے جانا ریڈی ( اسمبلی ) محمد علی شبیر ( کونسل ) ، سابق ڈپٹی چیف منسٹر دامودھر راج نرسمہا سابق صدور پردیش کانگریس کمیٹی وی ہنمنت راؤ ، پنالہ لکشمیا کو شامل کیا گیا ہے ۔ ٹی آر ایس ، تلگو دیشم ، وائی ایس آر کانگریس پارٹی کے علاوہ دوسری جماعتوں کے قائدین کانگریس سے رابطے میں ہیں اور کسی بھی وقت پارٹی میں شامل ہونے کے لیے تیار ہے ۔ تاہم کانگریس پارٹی جلد بازی میں کوئی فیصلہ کرنے کے بجائے دوسرے قائدین کے کانگریس میں شامل ہونے سے فائدے اور نقصان کا جائزہ لینے کے لیے کمیٹی تشکیل دی ہے ۔ کانگریس پارٹی ریاست میں کیڈر کو طاقتور بنانے کے ساتھ کامیاب ہونے والے امیدواروں کو ہی ٹکٹ دینے کا منصوبہ بنایا ہے ۔ مقامی قائدین اور پارٹی کیڈر کے جذبات کو ٹھیس پہونچے بغیر دوسری جماعتوں کے قائدین کو کانگریس میں شامل کرنے کو ترجیح دی جارہی ہے اور اضلاع واری سطح پر فہرست تیار کرتے ہوئے قائدین کے ناموں کا جائزہ لیا جارہا ہے ۔ ماضی میں کانگریس پارٹی کے اہم عہدوں پر خدمات انجام دینے والے کئی ایسے قائدین دوبارہ کانگریس میں شامل ہونا چاہتے ہیں ۔ انہیں پارٹی میں شامل کرنے کی کانگریس ہائی کمان نے منظوری دے دی ہے ۔ تاہم اس مسئلہ پر ریاست کے مقامی قائدین میں اختلاف رائے پایا جاتا ہے ۔ ان کا کہنا ہے کہ ایمرجنسی کے موقع پر کئی سینئیر قائدین نے کانگریس کا ساتھ چھوڑ دیا تھا ۔ باوجود اس کے 1978 میں کانگریس پارٹی بھاری اکثریت سے کامیاب ہوئی تھی ۔ پارٹی سے مستعفی ہونے والے قائدین کی اکثریت دوبارہ کانگریس میں شامل ہوگئی تھی جس کے باوجود 1983 میں کانگریس ہار گئی تھی ۔ متحدہ اضلاع نظام آباد ، محبوب نگر ، نلگنڈہ اضلاع میں مختلف سیاسی جماعتوں کے قائدین کانگریس سے رابطہ بنائے ہوئے ہیں۔ بہت جلد کانگریس کی 7 رکنی کمیٹی کا اجلاس طلب کرتے ہوئے دوسری جماعتوں کے قائدین کو کانگریس میں شامل کرنے کے لیے منظوری دئیے جانے کا قوی امکان ہے ۔۔