جے پی سی تحقیقات شرط، 2019ء میں اقتدار پر آنے کے بعد جانچ کی جائے گی، جئے پال ریڈی کا بیان
پاناجی۔21 ڈسمبر (سیاست ڈاٹ کام) پارلیمنٹ میں رافیل مسئلہ پر بحث کے لیے کانگریس نے شرط رکھی ہے۔ اس معاہدہ کی جب تک جوائنٹ پارلیمنٹری کمیٹی کے ذریعہ تحقیقات نہیں کروائی جائے لوک سبھا میں مباحث نہیں ہوں گے۔ جے پی سی کو اس معاملہ کی جانچ کرانے کا موقع دیا جائے اور حقائق کو جمع کرنے کے بعد ہی پارلیمنٹ میں اس پر بحث کے لیے کانگریس تیار ہوگی۔ کانگریس نے آج واضح کردیا کہ رافیل معاملہ کی تحقیقات کے بغیر بحث نہیں ہوسکتی۔ یہاں اخباری نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے کانگریس ترجمان جئے پال ریڈی نے کہا کہ جب ان کی پارٹی 2019ء میں اقتدار پر آئے گی وہ اس لڑاکا جٹ طیارہ معاہدہ کی تحقیقات کرائے گی۔ انہوں نے کہا کہ ہماس پر بحث کرنے کے لیے تیار نہیں ہم کو اس کے بعض حقاقء اکھٹا کرنے کی ضرورت ہے اور یہ صرف جے پی سی کے ذریعہ ہی ممکن ہے۔ جے پی سی یہ کرے گی کہ وہ معاہدہ کے اصل حقائق کو جمع کرنے گی۔ ہم کو اس کے تعلق سے حقائق اور سچائی کا علم نہیں ہے۔ جب کوئی حقائق یا سچائی کا علم ہی نہیں رکھنا تو وہ حتمی نتیجہ پر کس طرح پہنچ سکتا ہے۔ جئے پال ریڈی ایک سوال کا جواب دے رہے تھے کہ آخر کانگریس رافیل مسئلہ پر پارلیمنٹ میں بحث کرنا کیوں نہیں چاہتی۔ انہوں نے مزید کہا کہ جب ہم سال2019ء کے عام انتخابات کے بعد اقتدار پر آئیں گے تو اس کی تحقیقات کرائیں گے۔ سب سے پہلے عوام کو سچائی کا علم ہونا چاہئے۔ رافیل معاہدہ پر سپریم کورٹ کے فیصلہ کا حوالہ دیتے ہوئے جئے پال ریڈی نے کہا کہ جہاں تک اس مسئلہ پر عدالت کا تعلق ہے، سپریم کورٹ نے وہی فیصلہ کیا جو اسے کرنا تھا۔ ہم (کانگریس) وہاں نہیں تھے۔ سپریم کورٹ کا فیصلہ اس کے دائرہ تک محدود ہے اس کو بنیاد نہیں بنایا جاسکتا کیوں کہ اس کیس کی دوبارہ تحقیقات ضروری ہے۔ کسی بھی قیمت پر ہم سپریم کورٹ سے اس کی رائے طلب نہیں کریں گے۔ ہم سپریم کورٹ میں نہیں تھے۔ ایک جمہوریت میں سب سے پہلے جمہوری عمل کو یقینی بنانا ہوتا ہے۔ اس لیے ہم رافیل معاہدہ کی جے پی کے ذریعہ تحقیقات کرانے پر زور دے رہے ہیں۔