کالا دھن مسئلہ: ہندوستان ٹھوس ثبوت پیش کرے

ممبئی۔7 ڈسمبر ( سیاست ڈاٹ کام ) بیرونی ملکوں کے بینکوں میں مبینہ طور پر کالے دھن کو پوشیدہ رکھے جانے کے کیس کو ہندوستان کی جانب سے سوال اٹھائے جانے پر سوئیٹزرلینڈ نے کہا کہ ہندوستان کو کالے دھن مسئلہ پر ٹھوس ثبوت پیش کرنا ہوگا ‘ صرف اندازوں اور اندیشوں سے کام نہیں چلے گا ۔ غیر ضروری توقعات پیدا کرنے سے سوئس حکام ہندوستان کی کوئی مدد نہیں کرسکے گا۔ سب سے پہلے سوئس حکام کو سوئس بنکوں میں اکاؤنٹ رکھنے والے تمام ہندوستانیوں کے نام فراہم کرنے ہوں گے ۔ اس کے بغیر سوائس حکام اپنے بل پر آزادانہ طور پر تحقیقات کرسکیں گے ۔ سوئیٹزرلینڈ کے سفیر برائے ہند لیوئس وون کاسٹلمیر نے یہ بھی کہاکہ ماضی کے تجربہ کو فراموش نہیں کیا جاسکتا ۔ انہوں نے ٹیکس چوری کرنیوالوں کا پتہ چلانے کیلئے ہندوستان کی مکمل مدد کرنے کا وعدہ کیا اور کہا کہ اس طرح کے کیسوں میں کچھ تو ثبوت ملنا چاہیئے ۔ تاہم انہوں نے اس بات سے اتفاق کیا کہ سوئس بینکوں میں جمع کردہ پوری رقم ٹیکس چوری کے ذریعہ جمع کردہ نہیں ہوسکتی ۔

ماضی میں جو رقومات جمع کی گئی ہیں ان میں سے زیادہ تر رقومات ٹیکس چوری کی نہیں ہوں گی کیونکہ سوئیٹزرلینڈ کئی دہوں سے مختلف ذرائع سے حاصل ہونے والی دولت کو جمع کرنے کی سب سے بڑی اور اہم منزل سمجھا جاتا ہے ۔ سفیر سوئیٹزرلینڈبرائے ہند نے کہا کہ اکاؤنٹ ہولڈرس کی مسروقہ فہرستوں کی بنیاد پر سوئس حکام کوئی تعاون نہیں کرسکے گا ۔ ہندوستانی ایجنسیوں کی آزادانہ تحقیقات کی ضرورت ہوگی تاکہ کم از کم ٹیکس کی دھوکہ دہی کے مرتکب افراد کے خلاف بادی النظر میں ثبوت مل سکے ۔ ہم ہندوستان کی تشویش سے واقف ہیں اور اس کی مجبوریوں کو سمجھتے ہیں لیکن ہم کو اس مسئلہ پر پوری طرح سے سمجھنے کیلئے ضروری ہے کہ ٹھوس ثبوت فراہم کئے جائیں ۔ اس معاملہ پر حالیہ دنوں میں زبردست غوروخوص ہوا ہے ۔ ہندوستانی حکومت کو اپوزیشن کی تنقیدوں کا سامنا بھی ہے کہ وہ 100دن کے اندر کالے دھن کو واپس لانے کا وعدہ پورا کرنے میں ناکام ہوئی ہے ۔