کالادھن: ایس آئی ٹی کا نئے تحقیقاتی ادارہ سے تعاون طلبی

نئی دہلی۔ 15؍فروری (سیاست ڈاٹ کام)۔ غیر قانونی مالیہ کے مقدمات میں تحقیقات کی رفتار تیز کرنے کے مقصد سے ایس آئی ٹی نے ایک معاشی ادارۂ سراغ رسانی سی ای آئی بی کی خدمات حاصل کی ہے جو تمام تحقیقاتی اور نفاذ قانون اداروں کے درمیان تعاون کرنے والا ادارہ ہے اور اعلیٰ اختیاری کمیٹی کا ایک حصہ ہے۔ خصوصی تحقیقاتی ٹیم (ایس آئی ٹی) چاہتی ہے کہ انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ اس کے سربراہ کو نامزد کرے جو تقریباً 12 مرکزی اداروں سے قربت رکھتا ہے جو کالے دھن کے بارے میں تحقیقات میں مصروف ہیں، تاہم ایس آئی ٹی نے مرکزی معاشی سراغ رسانی بیورو (سی ای آئی بی) کو اہم کردار دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ ایس آئی ٹی نے سی ای آئی بی کا انتخاب اس لئے کیا،

کیونکہ اسے پتہ چلا کہ اس ادارہ کے پاس ایسے معاملات سے نمٹنے کے تمام وسائل موجود ہیں جب کہ انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ پہلے ہی رقومات کی غیر قانونی منتقلی اور زر مبادلہ کی خلاف ورزی کے مقدمات کے بوجھ سے دبی ہوئی ہے۔ علاوہ ازیں اسے افرادی طاقت کی کمی بھی محسوس ہوتی ہے۔ سی ای آئی بی کو حال ہی میں ایس آئی ٹی کے ساتھ تعاون کرنے والے اہم ادارہ کے طور پر منتخب کیا گیا ہے۔ یہ 12 واں ادارہ ہوگا جو کالادھن کے سلسلہ میں ایس آئی ٹی سے تعاون کرے گا، تاہم اس کے علاوہ یہ ان تحقیقات میں مرکزی ادارہ کی حیثیت نہیں رکھے گا۔ دریں اثناء برن سے موصولہ اطلاع کے بموجب حکومت سوئزرلینڈ نے کالے دھن کے خلاف ہندوستان کی جدوجہد کے سلسلہ میں ہندوستان سے کہا کہ اسے 2018ء تک انتظار کرنا ہوگا۔

اس کے بعد ہی ہندوستانیوں کے بینک کھاتوں کی تفصیلات ’خودکار معلومات کے تبادلے‘ کے نظام کے تحت اس کو فراہم کی جاسکے گی۔ اس عالمی اقدام کے تحت 40 سے زیادہ ممالک ہیں جن میں ہندوستان بھی شامل ہے جس نے اتفاق کیا ہے کہ وہ معلومات کے خودکار نظام کو جلد از جلد اختیار کرلے گا اور عالمی ادارہ او ای سی ڈی میں شامل بھی ہوجائے گا تاکہ ٹیکس سے بچنے اور دھوکہ دہی کے واقعات کے خلاف کارروائی کرسکے۔ خود ساختہ جلد از جلد اس نظام کو اختیار کرنے والا گروپ 2016ء سے معلومات حاصل کرسکتا اور ستمبر 2017ء سے پہلی بار معلومات کا تبادلہ کرسکتا ہے، تاہم سوئزرلینڈ کا کہنا ہے کہ 2018ء سے پہلے معلومات کا تبادلہ عمل میں نہیں آسکتا۔