کارگزار چیف سکریٹری دہلی شکنتلا نے جائزہ حاصل کرلیا

نئی دہلی ،16 مئی (سیاست ڈاٹ کام) دہلی کے لیفٹننٹ گورنر نجیب جنگ اور چیف منسٹر اروند کجریوال کے درمیان تنازعہ اس وقت مزید گہرا ہوگیا جب عام آدمی پارٹی حکومت کی جانب سے مخالفت کے باوجود سینئر بیوروکریٹ شکنتلا گیملن نے آج کارگزار چیف سکریٹری کی حیثیت سے جائزہ حاصل کرلیااور یہ الزام عائد کیا کہ بی جے پی نے لیفٹننٹ گورنر کو مہرہ بناتے ہوئے ان کے خلاف سازش کی کوشش میں ہے ۔ کجریوال نے ایک مکتوب روانہ کرتے ہوئے گیملن سے کہا تھا کہ ان کا تقرر قواعد کے خلاف ہے، لہٰذا اپنے عہدہ کا جائزہ حاصل نہ کریں مگر چند گھنٹوں بعد ہی کارگزار چیف سکریٹری نے جائزہ حاصل کرلیا۔ لیفٹننٹ گورنر نجیب نے کل شکنتلا کا دہلی چیف سکریٹری کی حیثیت سے تقرر کیا تھا لیکن کجریوال حکومت نے اس تقرر کی شدید مخالفت کی اور یہ الزام عائد کیا تھا کہ ان کے بی ایس ای ایس ڈسکام کے ساتھ قریبی روابط ہیں۔

تاہم 1984ء بیاچ کی آفیسر نے ان الزامات کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے تردید کی تھی ۔ قائم مقام چیف سکریٹری کے کے شرما نجی دورہ پر امریکہ روانہ ہوئے تھے جس کے باعث گورنر نے کارگزار چیف سکریٹری کی حیثیت سے شکنتلا کا تقرر کیا ہے۔ وہ پاور سکریٹری کے عہدہ پر فائز تھیں ۔ ڈپٹی چیف منسٹر منیش سیسوڈیا نے جو سرویس ڈپارٹمنٹ کا قلمدان بھی رکھتے ہیں، کہا کہ جمہوری طریقہ پر منتخبہ دہلی حکومت کے خلاف گورنر کے ذریعے بی جے پی بغاوت کی کوشش میں ہے ۔ یہ پہلا موقع ہے کہ ایل جی نے چیف منسٹر اور مجلس وزراء کو نظرانداز کرتے ہوئے عہدیداروں کو راست ہدایت دی ہے ۔ دریں اثناء پتیرمل رائے جوچیف منسٹر کے وفادار تصور کئے جاتے ہیں لیفٹننٹ گورنر کی ہدایت کے احترام میں کارگزار چیف سکریٹری کا عہدہ حاصل نہیں کیا ۔