کانگریس کو بہت بڑا جھٹکہ ، آج مستقبل کا فیصلہ کرنے کا اعلان
حیدرآباد ۔ 22 ۔ جون : ( سیاست نیوز) : کانگریس کے سینئیر قائد و سابق ریاستی وزیر ڈی ناگیندر کانگریس کی ابتدائی رکنیت سے استعفیٰ پیش کرتے ہوئے کانگریس قیادت کو بہت بڑا جھٹکا دیا ہے ۔ ٹی آر ایس میں شامل ہونے کا امکان ہے ۔ 23 جون کو اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے کا اعلان کیا ہے ۔ ٹی آر ایس کے خلاف اعلان جنگ کرنے والی کانگریس پارٹی کو آج بہت بڑا جھٹکا پہونچا ہے ۔ دو دن تک کانگریس کی سرگرمیوں میں شامل رہنے والے ڈی ناگیندر نے آج پارٹی کی ابتدائی رکنیت سے استعفیٰ پیش کرتے ہوئے سب کو چونکا دیا ہے ۔ انہوں نے صدر کانگریس راہول گاندھی ، صدر نشین یو پی اے سونیا گاندھی اور صدر تلنگانہ پردیش کانگریس کمیٹی اتم کمار ریڈی کو اپنا استعفیٰ بذریعہ فیاکس روانہ کردیا ۔ واضح رہے کہ گذشتہ 30 سال سے ڈی ناگیندر کانگریس میں سرگرم ہے ۔ 2004 ، 1999 ، 1994 میں وہ حلقہ اسمبلی آصف نگر سے کانگریس کے ٹکٹ پر منتخب ہوئے 2009 کے انتخابات میں اسمبلی حلقہ خیریت آباد سے کامیاب ہوئے ۔ اس کے علاوہ وہ وزیر صحت و لیبر کی حیثیت سے بھی خدمات انجام دی ۔ اپنے استعفیٰ مکتوب میں ڈی ناگیندر نے بتایا کہ وہ بڑے دکھ کے ساتھ پارٹی کی ابتدائی رکنیت سے مستعفی ہونے کا فیصلہ کررہے ہیں ۔ 3 دہوں تک وہ کانگریس پارٹی سے وابستہ رہے ۔ پارٹی کے استحکام کے لیے کام کیا ۔ بدلتے ہوئے سیاسی حالت کے پیش نظر وہ پارٹی ہائی کمان اور تلنگانہ پردیش کانگریس قیادت کو بی سی طبقات کو اہمیت دینے توجہ دلاتے رہے تاہم تلنگانہ کی آبادی کا نصف فیصد رہنے والے بی سی طبقات کو کانگریس پارٹی نے نظر انداز کردیا ۔ ریاست میں بی سی ، ایس سی ، ایس ٹی اور اقلیتیں اپنے آپ کو غیر محفوظ تصور کررہے ہیں ۔ پارٹی میں گراس روٹ کے قائدین کو نظر انداز کردیا گیا ۔ قیادت کی کمزوری کی وجہ سے کانگریس پارٹی میں اندرونی جھگڑے بڑھ گئے ہیں ۔ گروپ بندیوں سے پارٹی کمزور ہورہی ہے ۔ وہ کئی مرتبہ ان خامیوں کی نشاندہی کرچکے ہیں لیکن پارٹی قیادت نے اس جانب کوئی توجہ نہیں دی ۔ میں جب گریٹر حیدرآباد سٹی کانگریس کا صدر تھا مجھے جان بوجھ کر ستایا گیا ۔ گریٹر حیدرآباد کے حدود میں 24 اسمبلی حلقے ہیں ۔ جس طرح گریٹر ممبئی اور دہلی کے صدر کو آزادی دی گئی انہیں نہیں دی گئی ۔ اس سے بھی وہ دل برداشتہ ہوچکے ہیں اور بڑی تکلیف کے ساتھ کانگریس سے مستعفی ہورہے ہیں ۔۔
کانگریس اور ٹی آر ایس پارٹیوں کی ناکامیوں کو اجاگر کرنے کے لیے بی جے پی کی پوسم جنا یاترا
حیدرآباد ۔ 22 ۔ جون : ( سیاست نیوز ) : بھارتیہ جنتا پارٹی نے آج کہا ہے کہ پارٹی کی جانب سے چلائی جانے والی مارپوکوسم جنا یاترا کا مقصد ٹی آر ایس ، ٹی ڈی پی اور کانگریس پارٹیوں کی ناکامیوں کو عوام میں اجاگر کرنا ہے اور 2019 میں پارٹی تنہا انتخاب لڑے گی ۔ اور پارٹی کو اپنی کامل جیت کا بھی یقین ہے ۔ پارٹی کے ریاستی صدر ڈاکٹر لکشمن ان کے ساتھی بی پرمیندر ریڈی کرشنا راؤ ساگر اور دوسروں نے آج ایک پریس کانفرنس کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ یاترا کا آغاز کل ہوگا اور یہ ایک اہم یاترا ہے جس میں بی جے پی پارٹی کے سینئیر قائدین حصہ لیں گے اور یہ یاترا ضلع اور منڈلس کے کئی دیہات سے گذرے گی ۔ اس یاترا کا آغاز صدر ڈاکٹر لکشمن کی درگا ماتا مندر ، بشیر باغ سے ہوگا ۔ اس کے بعد وہ یادادری روانہ ہوجائیں گے ۔ جہاں پر وہ پوجا کے بعد بھونگیر میں شام پانچ بجے عوامی میٹنگ سے مخاطب کریں گے ۔۔