نئی دہلی ۔19 اگست ۔ ( سیاست ڈاٹ کام ) اب تک کی نچلی سطح تک پہونچنے کے بعد ڈیزل کی فروخت پر نقصانات بڑھتے ہوئے 1.78 روپئے فی لیٹر تک پہونچ گئے ہیں ، جس سے قوم کے سب سے زیادہ زیراستعمال ایندھن کو سرکاری کنٹرول سے آزاد کرنے کے امکان میں تاخیر پیدا ہوگئی ہے ۔ نقصانات یا چلر قیمت فروخت اور درآمدی لاگت کے درمیان فرق اب تک کی سب سے نچلی سطح پر اگست کے ابتدائی نصف میں ہوا تھا جب یہ قدر 1.33 روپئے فی لیٹر ہوگئی تھی جس سے یہ امکانات روشن ہوگئے تھے کہ ڈیزل کو بہت جلد سرکاری کنٹرول سے آزاد کردیا جائے گا۔ تاہم سرکاری بیان میں بتایا گیا کہ موجودہ طورپر نقصان بڑھکر 1.78 روپئے فی لیٹر ہوچکا ہے ۔