ڈیری پراڈکٹس اور دودھ کی قیمتوں میں غیرمعمولی اضافہ

محصول بھی بڑھادیا گیا، صارفین میں شدید بے چینی، ڈیزل و پٹرول کی قیمتوں میں اضافہ کا منفی اثر
حیدرآباد 6 جون (سیاست نیوز) دودھ ایک ایسی شئے ہے جس کا استعمال نوزائدہ سے بستر مرگ پر رہنے والے کیلئے بھی ضروری ہوتا ہے اور سرکاری سطح پر اِس اہم ترین غذا کو اشیائے ضروریہ کی فہرست میں شامل رکھا گیا ہے لیکن اِس سے تیار ہونے والی دیگر اشیاء پر زائداز 14.5 فیصد ٹیکس عائد کرتے ہوئے دودھ کی قیمت میں بھی اضافہ کی راہیں ہموار کی گئی ہیں۔ عموماً عوام کو دودھ کی بڑھتی قیمتیں فوری نظر آجاتی ہیں جس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ یہ ایک روز مرہ کے استعمال کی چیز ہے جس کے بغیر تقریباً گزارا ناممکن تصور کیا جاتا ہے۔ گزشتہ دو ماہ کے دوران دودھ کی قیمتوں میں تقریباً 5 روپئے تک کا اضافہ ہوا ہے جس سے عوام میں شدید بے چینی پائی جاتی ہے۔ لیکن اِس اضافہ کے پس پردہ محرکات جن کا تعلق عوام سے بہت کم رہتا ہے۔ مہنگائی کی بنیادی وجوہات کا تعلق اکثر ڈیزل اور پٹرول کی قیمتوں کے باعث ہوتا ہے اور جب ڈیزل اور پٹرول کی قیمتوں پر قابو پانے میں کامیابی حاصل ہوجائے تو اِس بات کے امکانات میں بھی اضافہ ہوجاتا ہے کہ اشیائے ضروریہ کی قیمتیں بھی جو آسمان کو چھو رہی ہیں، اُن پر کنٹرول ہونے لگے گا۔ دودھ کی قیمت میں ہورہے مسلسل اضافہ کی بنیادی وجہ ڈیزل کی قیمتوں میں ماہانہ ہونے والے 50 پیسے کا اضافہ ہے جوکہ محصولات کے ساتھ تقریباً 65 پیسے فی لیٹر اضافہ ہورہا ہے۔ دونوں شہروں حیدرآباد و سکندرآباد کے علاوہ ریاست آندھراپردیش و تلنگانہ میں بھی دودھ کی قیمت میں تیزی سے اضافہ ریکارڈ کیا جارہا ہے۔ گزشتہ چند ماہ کے دوران چھوٹے دودھ کے کاروباریوں کی جانب سے قیمتوں میں اضافہ کے بعد اب حکومت کی زیرنگرانی چلائی جانے والی وجئے ڈیری میں بھی فی لیٹر 2 روپئے تک کا اضافہ ہوسکتا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ آئندہ ماہ کے پہلے ہفتہ میں وجئے ڈیری کی جانب سے دودھ کی قیمت میں اضافہ کرنے کا فیصلہ کرلیا گیا ہے۔ اِس فیصلہ کے پیش نظر دیگر خانگی ڈیری مالکین کی جانب سے بھی اضافہ کرنے کا فیصلہ کرلیا گیا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ ڈیزل کی قیمت میں ہورہے اضافہ کے باعث اِس کے اثرات دودھ کی پوری صنعت پر مرتب ہورہے ہیں۔ چونکہ دودھ کی صنعت کا مکمل انحصار جانور کے چارہ کے علاوہ دودھ کی صفائی کے لئے درکار مشنری اور دیگر اشیاء پر ہے۔ ڈیری مالکین کے بموجب گزشتہ ایک برس میں چارہ کی قیمت میں دس گنا اضافہ ہوچکا ہے اور اِس کی بنیادی وجہ ڈیزل کی قیمت میں ہونے والا اضافہ ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ چارہ کے لئے استعمال کی جانے والی گھاس جوکہ سابق میں مزدور کاٹا کرتے تھے اب وہ بھی مشین کے ذریعہ کاٹی جارہی ہے اور اُس مشین کو چلانے کے لئے بھی ڈیزل درکار ہے۔ اِسی طرح شہر کے نواحی علاقوں کے علاوہ دیگر اضلاع بالخصوص صنعتی علاقوں میں دودھ کی تیاری کے بعد اُس کی شہر منتقلی کے لئے جو اخراجات ہورہے ہیں اُن میں بھی بتدریج اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ جانور کے چارے میں گھاس کے علاوہ کٹی اور کھلی کا استعمال ہوتا ہے اور یہ اشیاء 2013 ء میں 2 تا 3 روپئے فی کیلو دستیاب تھے لیکن اب اشیاء کی قیمتیں 27 تا 35 روپئے تک پہونچ چکی ہیں۔ جس کی وجہ سے دودھ کی قیمت میں تیزی سے اضافہ ریکارڈ کیا جارہا ہے۔ ڈیری مالکین کا احساس ہے کہ دودھ سے تیار ہونے والی اشیاء پر عائد کئے جانے والے محصولات میں تخفیف کی صورت میں دودھ کی قیمت بھی کم ہوسکتی ہے۔ بعض مالکین نے بتایا کہ تیل اور گھی جس میں قدرے اشتراک ہے لیکن تیل پر جو محصولات عائد کئے جارہے ہیں، اُس سے 300 فیصد زائد محصولات گھی کی فروخت پر ادا کرنے پڑتے ہیں۔ عموماً موسم گرما کے دوران دودھ کی قیمت میں اضافہ ہوتا ہے

لیکن اِس مرتبہ دودھ کی قیمت میں ہورہے اضافہ سے خود ڈیری مالکین بھی ناخوش ہیں۔ چونکہ اُنھیں آمدنی میں اضافہ کے لئے قیمت میں اضافہ کرنے کے بجائے اخراجات کی پابجائی اور نقصانات سے بچنے کے لئے قیمت میں اضافہ کرنا پڑرہا ہے۔ آندھراپردیش کے اضلاع میں دودھ کی قیمت میں گزشتہ دو ماہ کے دوران 10 روپئے تک کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے جبکہ تلنگانہ میں 4 تا 5 روپئے کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ بھینس کے دودھ کے ساتھ ساتھ گائے کے دودھ کی قیمت میں بھی اضافہ ہوا ہے جو 20 تا 22 روپئے فی لیٹر فروخت کیا جاتا تھا اب وہ 32 تا 35 روپئے تک پہونچ چکا ہے۔ عوام اور ڈیری مالکین دونوں ہی کی نظریں حکومت پر ٹکی ہوئی ہیں کہ کب حکومت خواہ وہ ریاستی ہو یا مرکزی اشیائے ضروریہ کی قیمتوں بالخصوص دودھ کی قیمتوں کو کنٹرول کرنے اور ہر کسی کے لئے قابل دسترس برقرار رکھنے کے اقدامات کرے گی۔ عوام نے حکومت سے مطالبہ کیاکہ ڈیری صنعت کو راحت پہونچانے کے اقدامات کے ذریعہ عوام کو راحت پہنچائی جائے تاکہ دودھ کی قیمت پر کنٹرول کے آثار نمایاں ہوسکے۔