نئی دہلی 28 ڈسمبر (سیاست ڈاٹ کام) سابق وزیراعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ کا شمار عالمی سطح کے مشہور و معروف ماہرین اقتصادیات اور دانشوروں میں ہوتا ہے۔ انھوں نے 10 برسوں تک عہدہ وزارت عظمیٰ پر فائز رہتے ہوئے ملک کی بہتر انداز میں خدمات انجام دی ہیں۔ ان کی سب سے بڑی خوبی یہ تھی کہ وہ موجودہ وزیراعظم نریندر مودی کی طرح صرف بڑبڑ نہیں کرتے تھے یعنی غیر ضروری باتیں نہیں کرتے تھے۔ خاموش رہا کرتے تھے لیکن اسی خاموشی نے انھیں دنیا کے ممتاز دانشوروں اور ہندوستان کے کامیاب وزیراعظم کی فہرست میں شامل کیا۔ اب تک 70 برسوں کے دوران ہمارے وطن عزیز میں جن 15 وزرائے اعظم نے خدمات انجام دیں ان میں پنڈت جواہر لال نہرو، لال بہادر شاستری، گلزاری لال نندا، مرار جی دیسائی، اندرا گاندھی، راجیو گاندھی، وی پی سنگھ، چندرشیکھر، پی وی نرسمہا راؤ، ایچ ڈی دیوے گوڑا، آئی کے گجرال، اٹل بہاری واجپائی، منموہن سنگھ اور نریندر مودی شامل ہیں۔ جہاں تک ڈاکٹر منموہن سنگھ کا سوال ہے اُنھوں نے وزیر فینانس کی حیثیت سے پھر بحیثیت وزیراعظم معاشی اصلاحات نافذ کرتے ہوئے ہندوستان کو دنیا کی اہم معیشتوں میں شامل کروایا۔ کہتے ہیں کہ عہدوں سے شخصیتوں کے وقار میں اضافہ ہوتا ہے لیکن ڈاکٹر منموہن سنگھ ایسی شخصیتوں میں شامل ہیں جن کے باعث عہدوں کی شان بڑھ جاتی ہے۔ لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ وزیراعظم نریندر مودی اور ان کی بی جے پی نے ہمیشہ ڈاکٹر منموہن سنگھ کی توہین کی کوشش کی ہے۔ ان کے خلاف ہتک آمیز الفاظ کا استعمال کیا ہے۔ اب ڈاکٹر منموہن سنگھ کے بارے میں ایک ایسی فلم آرہی ہے جس میں ان کے عہدہ وزارت عظمیٰ کی میعاد کا احاطہ کیا گیا ہے۔ اس فلم میں بی جے پی لیڈر و فلمسٹار انوپم کھیر نے ڈاکٹر منموہن سنگھ کا کردار ادا کیا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ The Accidental Prime Minister (اتفاقی وزیراعظم) نامی اس فلم کے پروڈیوسرس کو مہاراشٹرا یوتھ کانگریس کے صدر ستیہ جیت تمبے پاٹل نے ایک مکتوب روانہ کرتے ہوئے اس فلم کے Preview کے اہتمام کا مطالبہ کیا۔ یہ بھی بتایا جاتا ہے کہ ڈاکٹر سنگھ کے بارے میں بنائی جارہی اس فلم میں ڈاکٹر سنگھ کے دور وزارت عظمیٰ کے دوران پارٹی کی داخلی سیاست کو اُجاگر کرنے کی کوشش کی گئی۔ این ڈی ٹی وی کی ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ یہ فلم سنجے بارو کی کتاب پر مبنی ہے۔ مسٹر سنجے بارو سال 2004 ء تا 2008 ء ڈاکٹر منموہن سنگھ کے میڈیا اڈوائزر کی حیثیت سے خدمات انجام دے چکے ہیں۔ کانگریس قائدین نے اس فلم کی خصوصی نمائش یا اسکریننگ کا مطالبہ کیا ہے۔ یہاں اس بات کا تذکرہ ضروری ہوگا کہ 11 جنوری کو یہ فلم ریلیز ہونے والی ہے۔ مسٹر پاٹل کا دعویٰ ہے کہ فلم کے ٹریلر سے ایسا لگتا ہے کہ فلم میں حقائق کو توڑ مروڑ کر پیش کیا گیا ہے۔ ڈاکٹر منموہن سنگھ یوپی اے کی سربراہ سونیا گاندھی اور کانگریس پارٹی کے بارے میں غلط واقعات پیش کئے گئے ہیں اور انھیں ایسے انداز میں پیش کرنے کی کوشش کی ہے جس سے دیکھنے والوں کو غلط تاثر ملتا ہے۔ مسٹر پاٹل نے انتباہ دیا ہے کہ اس فلم سے قابل اعتراض اور کانگریس و کانگریس قائدین کی شبیہ متاثر کرنے والے مناظر کو حذف کردیا جانا چاہئے ورنہ یوتھ کانگریس ورکرس کے پاس فلم کی نمائش روکنے کے دوسرے امکانات بھی ہیں۔ دوسری طرف بی جے پی کے سرکاری اکاؤنٹ پر بتایا گیا کہ ایک سیاسی خاندان کس طرح دس برسوں تک ملک کو لوٹا اس کی کہانی فلم میں پیش کی گئی ہے اور یہ فلم 11 جنوری کو نمائش کے لئے پیش کی جارہی ہے۔