چیوڑلہ کو ملک کا نمبر ون اور ماڈل حلقہ بنانے کا عزم

رکن پارلیمنٹ وشویشور ریڈی کی مثالی خدمات، اقلیتوں کی بھرپور تائید حاصل
حیدرآباد۔ 21 مارچ (سیاست نیوز) کونڈا وشویشور ریڈی حلقہ لوک سبھا چیوڑلہ کو ملک کے نمبر ون اور ماڈل حلقہ میں تبدیل کرنے کا منصوبہ رکھتے ہیں۔ عوامی خدمات کا ریکارڈ رکھنے والے وشویشور ریڈی اس حلقہ سے دوسری مرتبہ مقابلہ کررہے ہیں۔ کانگریس پارٹی کے ٹکٹ پر وشویشور ریڈی میدان میں ہیں اور انتخابی شیڈول کی اجرائی کے ساتھ ہی انہوں نے عوام سے ملاقات کے پروگرام کا آغاز کردیا۔ چیوڑلہ لوک سبھا حلقہ کے تحت آنے والے اسمبلی حلقہ جات میں کانگریس پارٹی کے حق میں عوامی تائید میں روزافزوں اضافہ ہورہا ہے۔ خاص طور پر نوجوانوں اور اقلیتوں میں کونڈا وشویشور ریڈی مقبول قائد کے طور پر ابھریں گے۔ رکن پارلیمنٹ کی حیثیت سے اپنی پہلی میعاد میں انہوں نے جو ترقیاتی اور فلاحی کام انجام دیئے تھے، اس کی بنیاد پر انہیں بھاری اکثریت سے دوبارہ منتخب کرنے کا رائے دہندوں نے عہد کرلیا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ وشویشور ریڈی جو گزشتہ میعاد میں ٹی آر ایس کے ٹکٹ پر منتخب ہوئے تھے، اس مرتبہ وہ کانگریس کے امیدوار ہیں۔ اس کے باوجود ان کی مقبولیت میں کوئی کمی نہیں ہوئی۔ وہ ہمیشہ عوام کے درمیان رہ کر مسائل کی یکسوئی میں یقین رکھتے ہیں۔ انہوں نے حلقہ کی ترقی کے بارے میں باقاعدہ ایجنڈا تیار کیا ہے جس میں حلقہ کو ملک میں نمبر ون بنانے کی منصوبہ بندی کی گئی ہے۔ وشویشور ریڈی حلقہ میں تعلیم کے فروغ پر خصوصی توجہ دینا چاہتے ہیں۔ غریب طبقات کو عصری اور معیاری تعلیم کی فراہمی ان کی اولین ترجیحات میں شامل ہیں۔ رنگاریڈی ضلع کی ترقی کے لیے گزشتہ 5 برسوں میں انہوں نے مرکز سے بارہا نمائندگی کی اور کئی پراجیکٹس کی منظوری حاصل کی۔ وہ بنیادی تعلیم سے لے کر اعلی تعلیم تک کے ادارے چیوڑلہ لوک سبھا حلقہ میں قائم کرنے کی منصوبہ بندی کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تعلیم کے ساتھ بہتر طبی سہولتوں کی فراہمی کے لیے نہ صرف سرکاری دواخانوں میں خدمات کو بہتر بنایا جائے گا بلکہ خانگی شعبہ کے ہاسپٹلس کو مفت طبی خدمات کے لیے راضی کرانے کی کوشش کی جائے گی۔ بیروزگار نوجوانوں کو روزگار کی فراہمی اور خواتین کو سماجی اور معاشی طور پر مستحکم کرنے کے لیے کئی اسکیمات حکومت سے منظوری کی منتظر ہیں۔ خواتین کے لیے خود روزگار اسکیمات کی مرکزی حکومت سے منظوری حاصل کی جائے گی۔ ان کا کہنا ہے کہ راہول گاندھی کی زیر قیادت کانگریس کی حکومت کی مرکز میں تشکیل کے بعد چیوڑلہ کی ہمہ جہتی ترقی کو یقینی بنایا جاسکے گا۔ انہوں نے کہا کہ آندھراپردیش کی تقسیم کے وقت جو وعدے کیئے گئے تھے ان کی تکمیل صرف کانگریس پارٹی سے ممکن ہے۔ وشویشور ریڈی کی مقبولیت سے دیگر اپوزیشن جماعتیں بوکھلاہٹ کا شکار ہیں۔ ٹی آر ایس کو ان کے خلاف ابھی تک کوئی طاقتور امیدوار نہیں ملا ہے۔