چین ۔پاکستان 46 بلین ڈالرس مالیتی معاہدہ

اسلام آباد ۔ 20 اپریل (سیاست ڈاٹ کام) صدر چین ژی جن پنگ آج اپنے پہلے دورہ پاکستان پر یہاں پہنچے جہاں وہ ایک معاشی راہداری کیلئے 46 بلین امریکی ڈالرس کی مالیت والے معاہدہ کے علاوہ دیگر معاہدوں پر دستخط کریں گے۔ یاد رہیکہ پاکستان اور چین کی دوستی کو ’’ہر موسم میں خوشگوار‘‘ دوستی سے تعبیر کیا جاتا ہے اور اس طرح دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کو مزید استحکام حاصل ہوگا۔ صدر چین اور ان کی اہلیہ پینگ لیوان کو نورخان ایربیس پر سرخ قالین استقبال کیا گیا جہاں صدر پاکستان ممنون حسین نے ان کا خیرمقدم کیا۔ اس موقع پر وزیراعظم نواز شریف، فوجی سربراہ راحیل شریف اور کابینی ارکان بھی موجود تھے۔ اس موقع پر سخت سیکوریٹی کے انتظامات کئے گئے تھے جبکہ شہر کے ہر خاص اور حساس مقامات پر زائد سیکوریٹی اہلکاروں کو تعینات کیا گیا تھا۔ بات چیت کے بعد دونوں ممالک چائنا۔ پاکستان اکنامک کاریڈو (CPEC) معاہدہ پر دستخط کئے جائیں گے جس کے ذریعہ چین کے ترقی پذیر مغرب بعید علاقوں کو پاکستان کے گوا اور گہرے سمندر والی بندرگاہ سے جو بحرہ عرب میں واقع ہے، پاکستان مقبوضہ کشمیر کے ذریعہ سڑکوں، ریلویز، بزنس زونس، انرجی اسکیمات اور پائپ لائنس کے وسیع تر اور پیچیدہ نیٹ ورکس کے ذریعہ جوڑا جائے گا۔ بیجنگ سے موصولہ اطلاع کے بموجب چین نے آج کہا کہ وہ ہند ۔ پاک امن مذاکرات میں پیشرفت کا خواہاں ہے کیونکہ اس سے تمام علاقائی فریقین کو فائدہ پہنچے گا۔ صدر چین ژی جن پنگ چین ۔ پاک سدا بہار دفاعی تعلقات میں اضافہ کے مقصد سے اسلام آباد کے اولین دورہ پر ہیں۔ چین نے کہا کہ وہ پاکستان کے ساتھ علاقائی سلگتے ہوئے مسائل اور گہرے دفاعی تعاون کیلئے ایک رابطہ کمیٹی قائم کرے گا۔ وزارت خارجہ چین کے ترجمان ہونگ لی نے کہا کہ پاکستان کے ساتھ تعاون میں گہرائی پیدا کی جائے گی اور علاقائی سلگتے ہوئے مسائل کی یکسوئی کیلئے تعاون کمیٹی قائم کی جائے گی۔ تفصیلات دریافت کرنے پر انہوں نے صرف یہ کہا کہ چین ہندوستان اور پاکستان کے امن مذاکرات کے فروغ اور بہتر تعلقات کیلئے اپنا کردار ادا کرنے تیار ہے کیونکہ اس سے نہ صرف ان دونوں ممالک، ان کے عوام کو فائدہ پہنچے گا بلکہ تمام علاقائی ممالک کے مفادات کی تکمیل ہوگی۔