بیجنگ ، 6 ڈسمبر (سیاست ڈاٹ کام) حکومت چین نے سابق سکیورٹی چیف جو یونگ کانگ کو مختلف الزامات کے تحت گرفتار کر لیا ہے۔ الزامات میں رشوت وصول کرنے کے علاوہ زنا کاری اور ملکی رازوں کا افشا کرنا بھی شامل ہے۔ جو یونگ کانگ چین کے سب سے طاقتور پالیسی ساز ادارے پولٹ بیورو اسٹینڈنگ کمیٹی کے سابق اراکین میں سے ہیں۔ پولِٹ بیورو اسٹینڈنگ کمیٹی کے اراکین کی تعداد نو ہوتی ہے۔ گرفتاری کے بعد سابقہ سکیورٹی چیف کو کمیونسٹ پارٹی سے بھی نکال دیا گیا ہے۔ موجود صدر شی جِن پِنگ کے دور میں کرپشن کے خلاف اْن کے جاری ملک گیر آپریشن میں جو یونگ کانگ سب سے اعلیٰ حکومتی اہلکار ہیں جو گرفتار کئے گئے ہیں۔ چینی نیوز ایجنسی کے مطابق سابق سکیورٹی چیف کو کئی الزامات کا سامنا ہے۔ 1981ء کے بعد جو یونگ کانگ ایسے سب سے اعلیٰ حکومتی اہلکار ہیں جنہیں عدالتی کٹہرے کا سامنا ہو گا۔ جو یونگ کانگ گزشتہ کچھ ہفتوں سے تفتیشی عمل کا سامنا کر رہے تھے۔ حکام کے مطابق انہیں حکومتی نظم و ضبط کے منفی اقدامات کرنے کا بھی سامنا ہے۔ ان کو آخری مرتبہ گزشتہ برس 13 اکتوبر کو دیکھا گیا تھا۔ ایسا امکان ہے کہ رواں برس جولائی سے وہ حراست میں ہیں۔ اُن کو 2007ء میں چین کی اندرونی سکیورٹی کا سربراہ مقرر کیا گیا تھا۔ 2012ء سے قبل جو یونگ کانگ موجودہ صدر شی جِن پنگ کے سیاسی حریف سمجھے جاتے تھے۔