لنکشیا ۔ 17 جولائی (سیاست ڈاٹ کام) سبز گنبد والی مسجد جو چین میں ’’چھوٹا مکہ‘‘ کے نام سے مشہور ہے لیکن اب یہاں ایک نہایت ہی زبردست قسم کی تبدیلی لائی گئی ہے۔ مقامی افراد کے بموجب اے ایف پی کو بتایا گیا کہ یہاں مسلمان اس خوف میں مبتلاء ہیں کہ اسلام کو آہستہ آہستہ ختم کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ آپ کو بتادیں کہ لنکشیا ایک اسلامی علاقہ ہے جو مغربی چین میں ہے جہاں بین مذاہب آزادی ہے جہاں حوئی مسلمان رہتے ہیں اور دوسرا علاقہ ژن جیانگ جو لنکشیا سے دور مغرب میں واقع ہے، چینی حکومت نے اس خالص مذہبی معاملہ کو وہی دقیانوسی لفظ ’’کٹر پن‘‘ اور ’’علحدگی پسند‘‘ سے تعبیر کرتے ہوئے انہیں ’’ایغور‘‘ کے (بقول) تعلیمی کیمپس میں بھیج رہی ہے جن میں کمسن بچے بھی شامل ہیں۔ مقامی حکام نے مساجد سے مائیکس اور ساونڈ باکس نکالنے کے احکامات دیئے ہیں اس بہانہ کے ساتھ کہ یہ صوتی آلودگی میں اضافہ کا باعث ہے۔ امام مسجد نے کہا کہ مسلمانوں کو سیکولر بنانے کی کوشش کے طور پر وہ بنیادی دین کو جڑ سے اکھاڑنا چاہتے ہیں۔ وہ چاہتے ہیں ہمارے مسلمان بچے صرف کمیونزم اور اس کی پارٹی پر یقین رکھیں اور بس … لیکن انشاء اللہ ایسا کبھی نہیں ہوگا۔