لوک سبھا میں جتیندر ریڈی کا دعویٰ، تلنگانہ میں بنیادی تعلیمی سہولتوں کی فراہمی کا تذکرہ
حیدرآباد ۔ 18 ۔ جولائی (سیاست نیوز) لوک سبھا میں ٹی آر ایس کے فلور لیڈر اے پی جتیندر ریڈی نے کہا کہ چیف منسٹر کے سی آر کے فرزند کے ٹی آر جو چاول کھاتے ہیں، یہی چاول ریاست کے اقامتی اسکولوں کے طلبہ کو سربراہ کیا جاتا ہے ۔ پارلیمنٹ میں تعلیم کے حق سے متعلق ترمیمی بل پر مباحث میں حصہ لیتے ہوئے جتیندر ریڈی نے ریاست کے اقامتی اسکولوں اور ہاسٹلس میں طلبہ کو دی جانے والی سہولتوں کا تذکرہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ ہاسٹلس اور اسکولوں میں باریک چاول سربراہ کیا جارہا ہے اور چیف منسٹر کے فرزند بھی یہی چاول استعمال کرتے ہیں۔ تلنگانہ حکومت نے ملک میں ایک مثال قائم کی ہے۔ سابق میں ہاسٹلس کے طلبہ کی جانب سے چاول کے معیار کے سلسلہ میں مختلف شکایات موصول ہوتی رہیں لیکن ٹی آر ایس حکومت نے تمام کو یکساں طور پر باریک چاول سربراہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ طلبہ کو بہتر اور معیاری بنیادی سہولتیں فراہم کرنے میں تلنگانہ حکومت سرفہرست ہے۔ چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے ریاست میں 570 اقامتی اسکولوں کا آغاز کیا ہے جو ریاست میں نیا تعلیمی انقلاب ہے۔ اقلیتوں اور پسماندہ طبقات کیلئے بھی علحدہ اقامتی اسکولس قائم کئے گئے ۔ کے جی تا پی جی مفت تعلیم کی فراہمی کے مقصد سے اقامتی اسکولس کا قیام عمل میں آیا جہاں طلبہ کو معیاری تعلیم مفت فراہم کی جارہی ہے ۔ جتیندر ریڈی نے کہا کہ اقامتی اسکول کے طلبہ کو سلیپ ویل کے میٹریسس سربراہ کئے جارہے ہیں۔ تلنگانہ میں جملہ ایک ہزار اقامتی اسکول کام کر رہے ہیں۔ اسکولوں میں تعلیم حاصل کرنے طلبہ میں غیر معمولی دلچسپی ہے اور اسکولس میں ویٹنگ لسٹ کے ذریعہ داخلے دیئے جارہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ حکومت کے قائم کردہ اسکولوں کے سبب خانگی اسکولس بند ہورہے ہیں۔ طلبہ کی کثیر تعداد سرکاری اسکولوں میں تعلیم حاصل کرنے میں دلچسپی دکھا رہی ہے۔ جتیندر ریڈی نے ملک بھر میں طلبہ کو بنیادی سہولتوںکی فراہمی کا مرکز سے مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ بہتر سہولتوں کی فراہمی سے طلبہ کی بہتر تعلیم ممکن ہوتی ہے۔ سہولتوں کے باوجود اگر طلبہ بہتر مظاہرہ نہ کریں تو انہیں اسی کلاس میں روکا جاسکتا ہے۔ انہوں نے 40 طلبہ کیلئے ایک کلاس روم اور ایک ٹیچر کے تقرر کا مطالبہ کیا۔ مرکزی وزیر فروغ انسانی وسائل پرکاش جاوڈیکر نے پارلیمنٹ میں پیش کیا ۔ بل کے تحت پانچویں اور آٹھویں جماعت میں طلبہ کو ڈیٹین کرنے کی تجویز پیش کی گئی ہے۔ ٹاملناڈو اور کیرالا کو چھوڑ کر 25 ریاستوں میں بل کی تائید کی ہے۔