شکر ، ٹماٹر ، پیاز و دیگر زرعی اشیاء کی قیمتوں میں گراوٹ ، مہاراشٹرا حکومت پر شیوسینا کی تنقید
ممبئی۔ 17 اپریل (سیاست ڈاٹ کام) بی جے پی زیرقیادت حکومت مہاراشٹرا میں شامل جماعت شیوسنا نے آج چیف منسٹر مہاراشٹرا دیویندر فڈنویس کو اپنی شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ’’وہ ترقی کے بارے میں بے آواز ڈرمس بجا رہے ہیں جبکہ فصل کی قیمتیں گر رہی ہیں جس کی وجہ کسانوں کو مسائل و مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ ادھو ٹھاکرے کی زیرقیادت اس پارٹی نے کہا کہ چیف منسٹر کو ان کے دور حکومت میں ترقی ہونے کے دعوے کرنے کے بجائے انہیں شکر، ٹماٹر، پیاز اور دیگر زرعی اشیاء کی قیمتوں میں جو گراوٹ آرہی ہے، اس پر توجہ دینی چاہئے جس کے سبب کسانوں پر مضر اثرات مرتب ہورہے ہیں۔ شیوسینا نے پارٹی کے ترجمان اخبار ’’سامنا‘‘ کے اداریہ میں کہا کہ ’’چیف منسٹر ان کے دور میں ترقی ، زرعی پیداوار میں اضافہ اور ان کے دور میں قرض معافی اسکیم پر موثر عمل درآمد ہونے کی باتیں کرتے ہیں‘‘۔ مرہٹی اخبار ’’سامنا‘‘ میں کہا کہ ’’چیف منسٹر اس بے آواز ڈرمس کو بجانے کا سلسلہ جاری رکھ سکتے ہیں لیکن انہیں ٹماٹر، پیاز، شکر اور دیگر زرعی اشیاء کی گرتی ہوئی قیمتوں پر بھی توجہ دینی چاہئے۔ زرعی اشیاء کی قیمتوں میں کمی کے باعث کسانوں کو ہونے والی مشکلات کا تذکرہ کرتے ہوئے شیوسینا نے کہا کہ احمد نگر ڈسٹرکٹ میں ایک کاشت کار نے ایک میوزک بینڈ طلب کیا اور میوزک کے درمیان خود اس کی فصل کو تباہ کردیا اور اسے جانوروں کے سامنے ڈال دیا۔ شیوسینا کے ترجمان میں کہا گیا کہ مشکلات سے دوچار کسانوں کیلئے، اگر انہیں ان کی فصل کیلئے بنیادی قیمت بھی نہ ملے تو اسے تباہ کردینے کے سوائے کوئی دوسرا راستہ نہیں ہوتا۔ اخبار میں کہا گیا کہ اقل ترین امدادی قیمتوں کی بات تو چھوڑیئے، اگر کسانوں کو ان کی زرعی پیداوار کیلئے ہونے والے اخراجات بھی حاصل نہ ہوں تو پھر ان کیلئے ان کی فصل کو جانوروں کو چرنے دینے کے سواء کیا راستہ رہ جاتا ہے۔ شیوسینا، فڈنویس حکومت کا حصہ ہونے کے باوجود مختلف مسائل پر چیف منسٹر کو نشانہ بناتے رہتی ہے۔