حیدرآباد 3 فبروری (سیاست نیوز ؍ این ایس ایس) چیف منسٹر مسٹر کے چندرشیکھر راؤ کے گورنمنٹ جنرل اینڈ چیسٹ ہاسپٹل واقع ایرہ گڈہ کو وقارآباد منتقل کرنے کے فیصلہ پر سیاسی طوفان کھڑا ہوگیا ہے۔ چیف منسٹر کا یہ موقف ہے کہ موجودہ سکریٹریٹ ’’واستو‘‘ کے مطابق نہیں ہے لہذا ایرہ گڈہ میں چیسٹ ہاسپٹل کے مقام پر نیا سکریٹریٹ تعمیر کیا جائے۔ اپوزیشن پارٹیوں کو اِس پر اعتراض ہے اور اُن کا یہ ماننا ہے کہ اِس اقدام کے پس پردہ دیگر محرکات کارفرما ہیں۔ اپوزیشن نے یہ بھی الزام عائد کیا ہے کہ حکومت نے بڑے تجارتی گھرانوں کو فائدہ پہنچانے کے لئے یہ فیصلہ کیا ہے۔ وائی ایس آر کانگریس نے پہلے ہی ایرہ گڈہ میں احتجاجی دھرنا شروع کردیا۔ تلگودیشم پارٹی قائدین نے ہاسپٹل کا دورہ کرتے ہوئے مریضوں اور اُن کے ارکان خاندان سے ملاقات کی۔ اُنھوں نے ہاسپٹل کی منتقلی کی صورت میں درپیش مشکلات کے بارے میں معلومات حاصل کیں۔ بائیں بازو جماعتوں نے بھی حکومت کے اِس منصوبہ کے خلاف احتجاجی لائحہ عمل تیار کیا ہے۔ سی پی آئی نے چیف منسٹر سے اِس تجویز سے دستبرداری اختیار کرنے کا مطالبہ کیا۔ مسٹر سی ایچ وینکٹ ریڈی سکریٹری تلنگانہ سی پی آئی کمیٹی نے کہاکہ مرکز میں نریندر مودی حکومت اور تلنگانہ میں ٹی آر ایس حکومت نے انتخابات سے قبل عوام سے کئے گئے وعدوں کو فراموش کردیا ہے۔ اُنھوں نے کہاکہ عنقریب سکریٹریٹ میں آندھراپردیش میں مختص بلاکس خالی ہوجائیں گے۔ اُنھوں نے چیف منسٹر سے جاننا چاہا کہ اِنھیں کس مقصد کے لئے استعمال کیا جانے والا ہے۔ مسٹر وینکٹ ریڈی نے کہاکہ تلنگانہ میں خشک سالی کی صورتحال ہے اور حکومت کو چاہئے کہ وہ 330 منڈلوں کو خشک سالی سے متاثرہ قرار دیتے ہوئے مرکز سے نمائندگی کرے۔ کسانوں کے قرضہ جات معاف کئے جائیں۔ اُنھوں نے مرکز میں مودی حکومت پر بھی شدید تنقید کی اور کہاکہ وزیراعظم کو تبدیلیٔ مذہب کی فکر ہے حالانکہ صدر امریکہ بارک اوباما نے اپنے دورہ کے موقع پر اِس کا خاص طور پر ذکر کیا اور سیکولرازم کی پاسداری کا مشورہ دیا۔ اُنھوں نے کہاکہ مذہبی تبدیلی اور مخالف مزدور پالیسیوں کو اِسی طرح جاری رکھا جائے تو عوام احتجاج میں مجبور ہوجائیں گے۔ سکریٹریٹ کو منتقل کرنے کی تجویز کے خلاف کانگریس نے بھی شدید احتجاج کیا ہے۔ تلنگانہ تلگودیشم کے ایک وفد نے گورنر ای ایس ایل نرسمہن سے ملاقات کرتے ہوئے نمائندگی کی۔