رائے پور ۔ 10 ۔ اپریل : ( سیاست ڈاٹ کام ) : چھتیس گڑھ کے تاڈمیٹلا میں نکسلائٹس کے ہلاکت خیز حملہ کے 5 سال بعد سی آر پی ایف نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ باغیوں کی جانب سے حملہ سے متعلق جاری کردہ ویڈیو کے ذریعہ منصوبہ سازوں کا پتہ چلایا جائے جب کہ اس حملہ میں 76 سیکوریٹی اہلکار ہلاک ہوگئے تھے ۔ سنٹرل ریزرو پولیس فورس سکنڈ بٹالین کے کمانڈنٹ وی وی این پرسنا نے بتایا کہ ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ ریاستی حکومت سے یہ گذارش کی جائے کہ تاڈمیٹلا واقعہ کے بعد ماویسٹوں کی جانب سے جاری کردہ ویڈیو کو ثبوت کے طور پر تسلیم کیا جائے اور ویڈیو میں جو لوگ دکھائی دے رہے ہیں ۔ ان کا پتہ چلایا جائے تاکہ حملہ کے ذمہ داروں کو سزا دی جاسکے ۔ واضح رہے کہ یہ بٹالین جنوبی بستر کے سکوم ضلع میں متعین کی گئی ہے ۔ دانتے واڑہ میں 6 اپریل 2010 کو پیش آئے حملہ کے بعد ماویسٹوں نے 2013 میں دو تین ویڈیوز جاری کئے ہیں ۔ جس میں یہ دیکھا گیا کہ انتہا پسند بلند پہاڑیوں سے سیکوریٹی فورس پر اندھادھند فائرنگ اور اسلحہ و گولہ بارود لوٹ رہے ہیں ۔ جب کہ انکاونٹر میں ہلاک بعض ساتھیوں ارتھی جلوس بھی نکال رہے ہیں ۔ ریاستی پولیس نے حملہ کے اندروں ایک ماہ تقریبا 90 نکسلائٹس کے خلاف الزامات واضح کیے ہیں ۔ جس میں 10 مقامی دیہاتیوں کو گرفتار کرلیا گیا ۔
لیکن دنتے واڑہ عدالت نے 2013 میں ناکافی ثبوت بناء انہیں رہا کردیا ۔ تاہم کمانڈنٹ پرسنا نے بتایا کہ تحقیقات میں پتہ چلا ہے کہ تقریبا 300 مسلح گوریلاؤں ( چھاپہ مار ) نے چنتل نار ۔ تاڈے مٹیلا سڑک پر گھات لگاکر حملہ کیا تھا ۔ اور نکسلائٹس کی ویڈیو کلپنگس کا تجزیہ کرنے کے بعد 30 انتہا پسندوں کی نشاندہی کرلی گئی ۔ جو کہ جنوبی بستر میں ہنوز سرگرم ہیں ۔ انہوں نے بتایا کہ نئی دہلی میں واقع سی آر پی ایف ہیڈکوارٹر نے فیصلہ کیا ہے کہ حملہ آوروں کی نشاندہی کے لیے اس واقعہ کی از سر نو تحقیقات کی جائے تاکہ انہیں عدالت کے کٹہرے میں لایا جاسکے ۔ انہوں نے بتایا کہ نشاندہی کے بعد نیم فوجی فورس دور دراز کے دیہاتوں میں حملہ آوروں کی تصاویر آویزاں کرے گی اور ان کے بارے میں اطلاعات فراہم کرنے کی قبائیلیوں سے گذارش کی جائے گی تاکہ انہیں گرفتار کیا جاسکے ۔ ماویسٹوں کی عسکریت پسند تنظیم پیپلز لبریش گوریلا آرمی نے سال 2010 میں تاڈے میٹلا کے مقام پر ہلاکت خیز حملہ کر کے 75 سی آر پی ایف ملازمین اور ایک ریاستی پولیس کانسٹبل کو ہلاک کردیا تھا ۔۔