بابائے قوم تلنگانہ کے نعرے
پارلیمنٹ میں تلنگانہ بل کی تاریخی منظوری کے بعد دہلی سے واپسی کا جشن اور جلوس فتح
حیدرآباد۔/26فبروری، ( سیاست نیوز) تلنگانہ ریاست میں قدم رکھنے کے عہد کے ساتھ نئی دہلی روانہ ہونے والے ٹی آر ایس کے سربراہ چندر شیکھر راؤ 22دن قومی دارالحکومت میں قیام اور پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں تلنگانہ بل کی منظوری کے بعد آج حیدرآباد واپس ہوئے۔ اُن کی آمد پر ٹی آر ایس قائدین، کارکنوں اور تلنگانہ حامیوں کی جانب سے پُرجوش استقبال کیا گیا۔ ہزاروں کی تعداد میں موجود تلنگانہ حامیوں نے چندر شیکھرراؤ کو بیگم پیٹ ایرپورٹ سے ’’ وجئے اُتسو‘‘ ریالی کی شکل میں گن پارک پہنچایا جہاں شہیدان تلنگانہ کو خراج عقیدت پیش کیا گیا۔ چندر شیکھر راؤ نئی دہلی سے ایر انڈیا کی ریگولر فلائیٹ سے شمس آباد انٹرنیشنل ایرپورٹ پہنچے۔ فلائیٹ کی آمد میں دو گھنٹے تاخیر کے سبب ریالی کے آغاز میں بھی تاخیر ہوئی۔ شمس آباد انٹرنیشنل ایرپورٹ سے چندر شیکھر راؤ ہیلی کاپٹر کے ذریعہ بیگم پیٹ ایرپورٹ پہنچے جہاں پارٹی ارکان پارلیمنٹ و اسمبلی وکونسل اور سینئر قائدین نے ان کا استقبال کیا۔ ہیلی کاپٹر سے اُترتے ہی مختلف مذاہب سے تعلق رکھنے والے مذہبی قائدین نے انھیں آشیرواد پیش کیا۔ ایر پورٹ کے باہر ہزاروں کی تعداد میں تلنگانہ حامی اور ٹی آر ایس کے کارکن استقبال کیلئے موجود تھے۔ سارا علاقہ ’’ جئے تلنگانہ ‘‘ کے نعروں سے گونج اُٹھا۔ چندرشیکھر راؤ اپنی پارٹی کی انتخابی مہم میں استعمال کی جانے والی ’ وجئے رتھم ‘ پر سوار ہوئے اور ریالی میں شامل ہوگئے۔
بیگم پیٹ سے گن پارک تک ریالی کے تمام راستوں کو کے سی آر کے کٹ آؤٹس، پوسٹرس، بیانرس، استقبالیہ کمانوں اور پارٹی پرچم سے سجادیا گیا تھا اور ریالی کا سارا علاقہ گلابی رنگ میں تبدیل ہوچکا تھا۔ گن پارک سے ٹی آر ایس بھون تک بھی جگہ جگہ پارٹی پرچم اور کے سی آر کے کٹ آؤٹس نصب کئے گئے تھے۔ اس طرح کے سی آر کی آمد پر نئے شہر کے بیشتر علاقوں کو گلابی رنگ میں رنگ دیا گیا۔ ’ وجئے رتھم ‘ پر چندر شیکھر راؤ کے علاوہ ارکان پارلیمنٹ ڈاکٹر کے کیشوراؤ، مندا جگنادھم، جی ویویک، ٹی آر ایس فلور لیڈر ای راجندر اور سابق رکن اسمبلی این نرسمہا ریڈی سوار تھے۔ جبکہ ارکان اسمبلی‘ ہاتھی،اونٹ اور گھوڑوں پر سوار تھے۔ ریالی میں سجے سجائے کئی ہاتھی، اونٹ اور گھوڑوں کو شامل کیا گیا تھا۔ اس کے علاوہ مختلف انداز کے رتھ تیار کئے گئے تھے جو ریالی کے آگے چل رہے تھے۔ چندرشیکھر راؤ اور رتھ پر سوار قائدین استقبال کا ہاتھ ہلاکر جواب دے رہے تھے۔
تلنگانہ کے مختلف اضلاع سے بھی بڑی تعداد میں ٹی آر ایس کارکن اور تلنگانہ حامی کے سی آر کے استقبال کیلئے شہر پہنچے۔ تلنگانہ تہذیب سے متعلق مختلف تہواروں کی جھلک ریالی میں شامل تھی اور بونال اور بتکماں کی جھانکیاں بھی شامل تھیں۔ ریالی کے راستہ پر جگہ جگہ چندرشیکھر راؤ پر پھول برسائے گئے۔ ہیلی کاپٹر سے بھی ریالی پر پھولوں کی بارش کی گئی۔ ریالی کے راستوں پر دونوں جانب عوام بڑی تعداد میں موجود تھے اور تشکیل تلنگانہ کا خیرمقدم کررہے تھے۔ ریالی کے راستے پر پولیس کی جانب سے وسیع تر انتظامات کئے گئے اور ٹریفک کا رُخ دیگر علاقوں کی سمت موڑ دیا گیا۔جلوس میں خواتین کی بھی کثیر تعداد دیکھی گئی جن میں اقلیتی طبقہ سے تعلق رکھنے والی خواتین موجود تھی۔ ٹی آر ایس کارکن جلوس کے آگے فرطِ مسرت سے رقص کررہے تھے اور ایک دوسرے پر گُلال پھینکا جارہا تھا۔ شہیدان تلنگانہ کی یاد گار گن پارک پر ہزاروں کی تعداد میں ٹی آر ایس کارکنوں نے چندر شیکھر راؤ کا استقبال کیا۔ یادگار شہیدان تلنگانہ کو خوبصورتی کے ساتھ سجایا گیا تھا۔ کے سی آر کے فرزند کے ٹی راما راؤ اور دیگر قائدین جلوس کے انتظامات کی نگرانی کی۔ ریالی بیگم پیٹ سے براہ پنجہ گٹہ، نمس، خیریت آباد، لکڑی کا پُل، رویندرا بھارتی سے گن پارک پہنچی۔ شہیدان تلنگانہ کو خراج عقیدت پیش کرنے کے بعد چندر شیکھر راؤ پارٹی ہیڈکوارٹر تلنگانہ بھون پہنچے جہاں سینکڑوں کی تعداد میں ٹی آر ایس کارکن استقبال کیلئے موجود تھے۔