ٹی آر ایس حکومت کو اقتدار پر رہنے کا حق نہیں ، قائد اپوزیشن کے جانا ریڈی کا بیان
حیدرآباد۔/18نومبر، (سیاست نیوز) قائد اپوزیشن کے جانا ریڈی نے چیف منسٹر چندر شیکھر راؤ پر کانگریسی ارکان اسمبلی کو انحراف کی ترغیب دینے کا الزام عائد کیا۔ انہوں نے کہا کہ جس انداز میں برسر اقتدار پارٹی انحراف کی حوصلہ افزائی کررہی ہے وہ دستور کی واضح خلاف ورزی ہے لہذا حکومت کو اقتدار پر برقراری کا کوئی حق نہیں۔ اسمبلی میں اس مسئلہ پر حکومت سے جواب دینے کا مطالبہ کرتے ہوئے جانا ریڈی نے چیف منسٹر کو راست تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ چیف منسٹر ارکان کے انحراف کے سلسلہ میں راست ملوث ہیں جو جمہوری اور دستوری اصولوں کے مغائر ہے۔ اس طرح نو قائم شدہ تلنگانہ ریاست میں نئی روایت قائم کی جارہی ہے۔ جانا ریڈی نے دستور کے دسویں شیڈول کے مطابق منحرف ارکان کو نااہل قرار دینے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ تشکیل حکومت کے وقت چیف منسٹر اور وزراء نے دستور پر پابندی کا حلف لیا تھا لیکن انحراف کی حوصلہ افزائی کے ذریعہ یہ دستور کی خلاف ورزی کے مرتکب ہوئے ہیں۔ ٹی آر ایس ارکان کی جانب سے مداخلت پر جانا ریڈی نے برہمی کے انداز میں ریمارک کیا کہ اگر مزید چار ارکان اسمبلی بھی پارٹی چھوڑتے ہیں تو اس سے پارٹی پر کوئی فرق نہیں پڑے گا اور نہ ہی کوئی نقصان ہوگا لیکن وہ اس روایت کے خلاف ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ٹی آر ایس حکومت بھی عددی اعتبار سے مستحکم ہے اور اسے کوئی خطرہ نہیں پھر کیوں انحراف کی حوصلہ افزائی کی جارہی ہے۔ جاناریڈی نے کہا کہ ان کی پارٹی چیف منسٹر کی جانب سے دستور اور جمہوری اصولوں کو پامال کئے جانے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ مسئلہ انحراف کا نہیں بلکہ جمہوریت کیلئے خطرہ ہے اور دستور ہند کی سراسر خلاف ورزی کی جارہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت سے ایوان کی کارروائی چلانے کیلئے کانگریس تعاون کیلئے تیار ہے تاہم حکومت کو اس سلسلہ میں وضاحت کرنی ہوگی۔ وزیر اُمور مقننہ ہریش راؤ اور وزیر انفارمیشن ٹکنالوجی کے ٹی راما راؤ نے مداخلت کی اور اس مسئلہ پر راست طور پر جواب دینے سے گریز کیا۔ وزراء نے کہا کہ یہ مسئلہ اسپیکر کے پاس زیر غور ہے۔ انہوں نے انحراف مسئلہ پر مباحث کے بجائے عوامی مسائل پر مباحث کی وکالت کی۔ ہریش راؤ نے الزام عائد کیا کہ کانگریس پارٹی کو تلنگانہ عوام کے مسائل کی یکسوئی میں کوئی دلچسپی نہیں۔ انہوں نے کہا کہ میڈیا میں شہرت کیلئے کانگریس ارکان نے ایوان کی کارروائی میں رکاوٹ پیدا کی ہے۔