ایڈیٹر سیاست کی توجہ دہانی پر کے سی آر نے وعدہ پورا کیا ۔قانون ساز کونسل میں فاروق حسین کا انکشاف
حیدرآباد /13 نومبر (سیاست نیوز) کانگریس ایم ایل سی محمد فاروق حسین نے کہا کہ چیف منسٹر تلنگانہ کے چندر شیکھر راؤ کے ارود سیکھنے میں ایڈیٹر سیاست جناب زاہد علی خاں نے اہم رول ادا کیا ہے۔ کونسل میں بجٹ مباحث میں حصہ لیتے ہوئے انھوں نے بتایا کہ جب وہ سدی پیٹ بلدیہ رکن تھے تو انھوں نے ایک عید ملاپ تقریب کا اہتمام کیا تھا، جس میں ایڈیٹر سیاست اور چندر شیکھر راؤ نے بحیثیت مہمان خصوصی شرکت کی تھی، اس وقت چندر شیکھر راؤ نے تلگو میں تقریر کی لیکن انھیں مشورہ دیا گیا کہ عید ملاپ جیسی تقاریب میں وہ اردو میں تقریر کیا کریں تو کے سی آر نے جناب زاہد علی خاں سے وعدہ کیا کہ وہ آئندہ سال اردو میں تقریر کریں گے۔ چندر شیکھر راؤ نے جناب زاہد علی خاں کی توجہ دہانی پر اپنا وعدہ پورا کیا اور آج اردو میں تقریر کرنے کے قابل ہیں۔ جناب فاروق حسین نے بتایا کہ وہ اور چیف منسٹر بچپن کے دوست ہیں، ایک ہی کالج میں تعلیم حاصل کی اور ایک ساتھ دونوں نے سیاسی میدان میں قدم رکھا۔ انھوں نے ٹی آر ایس کے 12 فیصد مسلم تحفظات کے وعدہ کو جلد پورا کرنے مطالبہ کیا اور یاد دلایا کہ کانگریس کے وعدہ کے مطابق 4 فیصد تحفظات پر آج تعلیم و ملازمتوں پر عمل آوری ہو رہی ہے۔ انھوں نے کہا کہ تلنگانہ میں اقلیتوں کی آبادی 14 فیصد ہے، تاہم ٹی آر ایس نے آبادی کا تناسب 11 فیصد بتا کر 12 فیصد تحفظات کا وعدہ کیا، لہذا حکومت کو چاہئے کہ وہ ریکارڈ درست کرلے، ورنہ مستقبل میں مشکلات پیدا ہوسکتی ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ 12 فیصد تحفظات کیلئے کمیشن کی تشکیل حکومت کے زیر غور ہے، جبکہ جامع سروے کا ڈاٹا حکومت کے سامنے ہے۔ انھوں نے مطالبہ کیا کہ وقف جائدادوں کا تحفظ کیا جائے، اردو کو دوسری سرکاری زبان کا درجہ دے کر اس پر عمل کیا جائے غریب مسلمانوں کو بھی ایس سی ایس ٹی طبقات کی طرح 3 ایکڑ اراضی فراہم کی جائے، پشکرالو طرز پر ائمہ و مؤذنین کی تنخواہیں دی جائیں، آئی ڈی اے میں مسلمانوں کیلئے 10 فیصد کوٹہ مختص کیا جائے اور مسلم لڑکیوں کی کم عمر میں شادیوں کی روک تھام و طلاق کے گراف کو کم کرنے شریعت کونسل قائم کی جائے۔ انھوں نے کہا کہ وقف جائداد سے ناجائز قبضوں بالخصوص لینکو ہلز کا قبضہ برخاست کیا جائے، اقلیتی اداروں میں تقررات عمل میں لائیں اور سرکاری ملازمتوں کے امتحانات اردو زبان میں بھی منعقد کئے جائیں۔ انھوں نے مطالبہ کیا کہ تلنگانہ تحریک میں حصہ لینے والوں کیلئے مجاہدین آزادی کے طرز پر وظیفہ منظور کیا جائے۔