کچھ لو اور کچھ دو کے جذبہ کے تحت دونوں ریاستوں کے تمام مسائل کی یکسوئی سے اتفاق‘ گورنر کی مساعی
حیدرآباد 17 اگست (پی ٹی آئی؍ سیاست نیوز ) آندھرا پردیش کے چیف منسٹر این چندرا بابو نائیڈو اور تلنگانہ کے چیف منسٹر کے چندر شیکھر راو نے اپنے دیرینہ اختلافات کو پس پشت ڈالتے ہوئے مختلف مسائل پر دونوں ریاستوں کے درمیان تنازعات کی یکسوئی کیلئے گورنر ای ایس ایل نرسمہن کی موجودگی میں ملاقات کی ۔ دونوں چیف منسٹروں نے ملاقات کے بعد اخباری نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ ’کچھ لو اور کچھ دو ‘ کے انداز فکر اور خوشگوار ماحول میں بات چیت ہوئی ہے ۔ گورنر نے ان دونوں قائدین اور ان کے سینئر عہدیداروں کے ساتھ بند کمرے میں بات چیت کی اس اقدام کو دراصل دونوں چیف منسٹروں کے درمیان پیدا شدہ اختلافات اور سرد مہری کو ختم کرنے گورنر کی ایک کوشش کے طور پر دیکھا جارہا ہے ۔ کے سی آر نے بات چیت کو ’ثمر آور‘ قرار دیا اور کہا کہ وہ تعاون کے اسی جذبہ کے ساتھ مزید پیشرفت چاہتے ہیں کیونکہ دونوں ریاستیں باہمی طور پر ایک دوسرے پر منحصر ہیں۔ چندرا شیکھر راو نے اعتراف کیا کہ تلنگانہ صرف ایک زمینی ریاست ہے اور آندھراپردیش میں واقع مچھلی پٹنم بندر گاہ سے درآمدات کی ضروریات پوری ہوتی ہے۔تعلیمی اداروں کے بارے میں چندر شیکھر راو نے کہا کہ ’’یہ ادارے یقیناً اس ریاست کوہی جائیں گے جہاں وہ فی الحال موجود ہیں‘‘۔انہوں نے کہا کہ تلنگانہ کی درخواست پر آندھرا پردیش نے اپنی اسمبلی کا کل سے شروع ہونے والا اپنا بجٹ سیشن 7 ستمبر تک ختم کرنے سے اتفاق کرلیا ہے تا کہ تلنگانہ اسمبلی کے بجٹ سیشن کے باآسانی انعقاد کی راہ ہموار ہوسکے ۔اس دوران چندرا بابو نائیڈو نے کہا کہ دونوں حکومتوں کے مابین بات چیت ایک مثبت پیشرفت ہے دونوں جانب چند تلخیاں پیدا ہوئی تھی جنہیں کم کرنے کیلئے بات چیت کی گئی ۔ عوام کیلئے یہ بہتر ہے اس ضمن میں کچھ دینے اور لینے کی ضرورت ہے ۔ ہمیں تعاون کے جذبہ سے آگے بڑھنا چاہئے ۔ اس اجلاس میں ان مسائل کی یکسوئی کیلئے مدد کی ہے ۔ ایک سوال پر چندرا شیکھر راو نے کہا کہ دو چیف منسٹروں کا آئندہ اجلاس خیر سگالی جذبہ کے ساتھ جب بھی ضرورت ہو منعقد کیا جاسکتا ہے ۔ سیاست نیوز کے مطابق ۔گورنر ای ایس ایل نرسمہن نے دونوں چیف منسٹروں کے لئے درمیانی رول ادا کرتے ہوئے دونوں ہی چیف منسٹروں کو ایک متفقہ رائے پر لانے کی کوشش کی ۔ جبکہ اب تک دونوں ہی چیف منسٹروںنے ایک دوسرے کے خلاف ریمارکس اور تنقیدیں کرنے میں مصروف رہے ۔ ایک ریاست کے تعلق سے ایک چیف منسٹر کی جانب سے مرکزی حکومت سے شکایت بھی کی گئی ۔ یہاں تک کہ عدلیہ سے بھی رجوع ہوئے ۔ اس صورتحال کو دیکھتے ہوئے دونوں ریاستوں کے مابین حالات کو خوشگوار و بہتر بنانے کیلئے مشترکہ گورنر ای ایس ایل نرسمہن نے پہل کرتے ہوئے آج دونوں چیف منسٹروں کو راج بھون مدعو کیا اور 15 اگسٹ کو اپنی جانب راج بھون میں ترتیب دیئے گئے عصرانہ کیلئے دونوں چیف منسٹروں کو مدعو کرنے اس دن اجلاس طلب کرنے سے واقف کروایا دیا تھا جس کی روشنی میں آج راج بھون میں دونوں چیف منسٹروں نے مل بیٹھ کر متنازعہ مسائل و موضوعات پر مباحث کئے اور تفصیلی تبادلہ خیال کیا ۔ بتایا جاتا ہے کہ چیف منسٹر آندھراپردیش این چندرابابونائیڈو کے ہمراہ اسپیکر اسمبلی آندھراپردیش ڈاکٹر کے سیوا پرساد راؤ ‘ صدرنشین قانون ساز کونسل ڈاکٹر چکراپانی ‘ چیف سکریٹری وائی آر کرشنا راؤ موجود تھے ۔ چیف منسٹر تلنگانہ کے چندرشیکھرراؤ کے ہمراہ اسپیکر ریاستی قانون ساز اسمبلی مسٹر مدھو سدن چاری ‘ صدرنشین قانون ساز کونسل سوامی گوڑ ‘ چیف سکریٹری تلنگانہ ڈاکٹر راجیو شرما ‘ اس اجلاس میں خصوصی طور پر دو اہم مسائل پر بات چیت کی گئی ۔ ایک مسئلہ یہ رہا کہ سرکاری ملازمین کی تقسیم سے متعلق بات چیت کی گئی اور دوسرا مسئلہ اسمبلی عمارت میں تلنگانہ اور آندھرا اسمبلی سکریٹریٹ کو مختص کرنے پر تفصیل سے گفتگو کی گئی ۔ بتایا جاتا ہے کہ ایک موقعہ پر ’’ اب بات کرلیں گے ‘‘ کی دونوں چیف منسٹروں کے چندرا شیکھرراؤ اور این چندرابابونائیڈو نے گورنر مسٹر نرسمہن کو مکمل طمانیت دی ۔ اس طرح دونوں ہی چیف منسٹروں نے ایک قدم آگے پہل کی ۔ مسٹر نرسمہن نے کہا کہ تلگو عوام کیلئے آپ دونوں دو آنکھ کے مانند ہیں ۔ تقسیم کے معاملہ میں مسائل کا پیدا ہونا کوئی نئی بات نہیں ہے ۔ ان مسائل کو بیٹھ کر حل کرلیں ۔ ہر مسئلہ پر مرکزی حکومت اور عدلیہ سے رجوع ہونا مناسب بات ہیں ہے ۔ بتایا جاتا ہے کہ گورنر کے اس اظہار خیال پر دونوں ہی چیف منسٹروں نے ہاں کہہ دیا اور مسائل کی یکسوئی کا گورنر کو تیقن دیا ۔