چندرابابو کو تاحیات اقتدار کی کوئی گنجائش نہیں

صدر تلگودیشم کی ہر دن نئی بات، عوام کو گمراہ کرنے کی کوشش ، بی ستیہ نارائنا کا الزام

حیدرآباد 9 مارچ (سیاست نیوز) صدر پردیش کانگریس کمیٹی مسٹر بی ستیہ نارائنا نے انتہائی سخت الفاظ میں اپنے اس قیاس آرائی کا اظہار کیاکہ صدر تلگودیشم پارٹی مسٹر این چندرابابو نائیڈو کو ان کے بقید حیات رہنے تک انھیں اقتدار حاصل کرنے کا ہرگز کوئی موقع فراہم نہیں ہوگا کیونکہ مسٹر نائیڈو ہر روز ایک نئی بات کرتے ہوئے عوام کو گمراہ کررہے ہیں۔ جبکہ حقیقت یہ ہے کہ ریاست کی تقسیم کے سلسلہ میں تلگودیشم پارٹی نے مرکزی حکومت کی جانب سے تین مرتبہ طلب کردہ اجلاسوں میں شرکت کرتے ہوئے ریاست کی تقسیم کے ذریعہ علیحدہ ریاست تلنگانہ کی تشکیل عمل میں لانے کی مکمل و بھرپور تائید کی تھی اور اس کا ایک اور ثبوت یہ بھی ہے کہ خود تلگودیشم پارٹی کے سینئر قائد مسٹر پی اشوک گجپتی راجو نے ریاستی اسمبلی میں تلنگانہ بل پیش کرنے پر بھرپور تائید کرنے کا اظہار کیا تھا۔ مسٹر بی ستیہ نارائنا جوکہ اپنے دورہ وشاکھاپٹنم کے موقع پر پارٹی قائدین و کارکنوں کے منعقدہ ایک اجلاس سے خطاب کررہے تھے، دریافت کیاکہ تلنگانہ کی تائید کرنے کا اظہار کرنے والے مسٹر اشوک گجپتی راجو آج کیوں خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں۔علاوہ اُنھوں نے استفسار کیاکہ مسٹر چندرابابو نائیڈو نے ریاست کو متحدہ آندھراپردیش برقرار رکھنے کا کبھی بھی کسی بھی مقام پر کوئی تذکرہ کیوں نہیں کیا؟ اُنھوں نے کہاکہ اپنے فائدے کے لئے سیاسی مفادات کے حصول کو دیکھنے والے قائدین کو خود عوام ہی بہتر سبق سکھائیں گے۔ انھوں نے عوام سے ایسے قائدین کو سبق سکھانے کی اپیل کی۔ مسٹر بی ستیہ نارائنا نے وائی ایس آر کانگریس پارٹی کا تذکرہ کرتے ہوئے اپنی سخت تنقید کا نشانہ بنایا اور کہاکہ دستور ہند کے آرٹیکل 3 کی روشنی میں ریاست آندھراپردیش کی بہ آسانی تقسیم عمل میں لائے جانے کی نشاندہی کرتے ہوئے ریاست کی تقسیم کا مرکزی حکومت کو مشورہ دینے والے وائی ایس آر کانگریس پارٹی صدر مسٹر وائی ایس جگن موہن ریڈی آج عوام کے روبرو پہونچ کر مگرمچھ کے آنسو بہارہے ہیں۔ اُنھوں نے کہاکہ مسٹر جگن موہن ریڈی آج متحدہ ریاست آندھراپردیش کی جو باتیں کررہے ہیں وہ صرف اور صرف اپنی سیاسی بقاء و مفادات کیلئے ہے۔