مرمتی کام سست روی کا شکار ، سینکڑوں افراد کو تکلیف کا سامنا
حیدرآباد ۔ 17 ڈسمبر ۔ ( سیاست نیوز) پرانے شہر کے مصروف ترین چوراہے چندرائن گٹہ پر ٹریفک جام روز کا معمول بن چکا ہے لیکن اُس کے باوجود محکمہ آبرسانی کی جانب سے جاری مرمتی کام عاجلانہ طورپر مکمل کرنے کے بجائے مرضی کے مطابق کام انجام دیا جارہا ہے ۔ پرانے شہر کے علاقہ چندرائن گٹہ کی مصروف ترین سڑک کے بیچوں بیچ گزشتہ 10 یوم سے محکمہ آبرسانی کی جانب سے پائپ لائن کی تبدیلی کا عمل جاری ہے جس کے سبب اس علاقہ میں صبح کی اولین ساعتوں میں بسوں کے علاوہ اسکول و کالج کے ٹرانسپورٹ نظام کو کئی دشواریوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ۔ بارکس ، شاہین نگر ، بنڈلہ گوڑہ ، ممتاز باغ ،اسمعیل نگر و دیگر علاقوں کو فلک نما برج سے جوڑنے والے انتہائی اہم چوراہے پر کھودے گئے گہرے گڑھے کے سبب گزشتہ 10 یوم سے صبح کے اوقات میں اسکولی طلبہ کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ۔ اس چوراہے پر گھنٹوں ٹرافک جام رہنے کے سبب اسکولی طلبہ وقت پر اسکول پہنچنے سے قاصر ہیں اور شام کے مصروف ترین اوقات میں یہ چوراہا کسی بڑے حادثہ کو دعوت دینے کے مترادف بنا ہوا ہے ۔ چونکہ سڑک کے بیچوں بیچ گہرا گڑھا کھودنے کے بعد فوری طورپر تعمیری و مرمتی کاموں کی تکمیل کرتے ہوئے گڑھے بند کئے جانے چاہئے لیکن متعدد مرتبہ توجہ دہانی کے باوجود ایسا نہ ہونے کے سبب عوام دشواریوں کا سامنا کررہے ہیں۔ مقامی عوام نے اس بات کی شکایت کی ہے کہ مذکورہ کاموں کی عاجلانہ تکمیل کا تیقن دیا گیا تھا اور جب کام میں تاخیر ہونے لگی تب مقامی عوام کی جانب سے متوجہ بھی کروایا گیا لیکن اُس کے باوجود عہدیدار خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔ اس اہم سڑک پر نہ صرف بسوں کا گذر ہوتا ہے بلکہ چندرائن گٹہ چوراہے سے روزآنہ سینکڑوں لاریاں گذرتی ہیں جو بنگلور ہائی وے کے علاوہ کلو اکرتی سڑک پر رواں ہوتی ہیں۔ بسوں اور لاریوں کی وجہ سے بھاری ٹرافک جام رات کے اوقات میں بھی معمول کی بات بن چکی ہے جس کے سبب حادثات کا خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے ۔